30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس حدیث کی سند میں کوئی کذاب ہے ، نہ وضاع ، نہ متہم بالکذب ، نیز اس میں کوئی خلاف شرع معنی بھی نہیں اور نہ ایسے معنی جسکو عقل محال جانے ۔ پھر یہ کہ امام سیوطی نے اسکو
جامع صغیر میں نقل فرمایا ۔ فتاوی رضویہ ۳/۷۳
۹۹۹۔ عن سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : دخلت علی ابی عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما و ہو یتعمم ، فلما فرغ التفت فقال : اتحب العمامۃ ، قلت: بلی ، قال :احبہا تکرم، و لا یراک الشیطان الاولی ، سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : صَلٰوۃُ تَطَوُّعٍ أوْ فَرِیْضَۃٍ بِعَمَامَۃٍ تَعْدِلُ خَمْسًا وَ عِشْرِیْنَ صَلاۃً بِلاَ عِمَامَۃٍ، وَ جُمُعَۃٌ بِعِمَامَۃًتَعْدِلُ سَبْعِیْنَ جُمُعَۃُ بِلاَ عِمَامَۃٍ، ای بنی ! اعتم ، فان الملائکۃ یشہدون یوم الجمعۃ معتمین فیسلمون علی اہل
العمائم حتی تغیب الشمس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۹۹۸۔ الجامع الصغیر للسیوطی، ۱/۳۱۴
۹۹۹۔ کنز العمال للمتقی، ۴۱۱۳۹، ۱۵ / ۳۰۶
حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد ماجد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے حضور حاضر ہوا اور وہ عماہ باندھ رہے تھے ۔ جب باند ھ چکے تو میری طرف التفات کرکے فرمایا : تم عمامہ کو دوست رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں ۔ فرمایا : اسے دوست رکھو عزت پائوگے ،اور جب شیطان تمہیں دیکھیگا تم سے پیٹھ پھیر لیگا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : عمامہ کے ساتھ ایک نماز نفل خواہ فرض بے عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے اور عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بے عمامہ کے ستر جمعوں کے برابر ہے ۔ پھر فرمایا: اے فرزند ! عمامہ باندھا کر ۔ فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باند ھ کر آتے ہیں اور سورج
ڈوبنے تک عمامہ والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں ۔
]۴[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
حق یہ ہے کہ حدیث موضوع نہیں ۔ اسکی سند میں نہ کوئی وضاع ہے ،نہ متہم بالوضع ، نہ کوئی کذاب ہے ، نہ کوئی متہم بالکذب ، لا جر م اسے امام جلیل خاتم الحفاظ جلال الملت و الدین
سیوطی نے جامع صغیر میں ذکر فرمایا۔ جس کے خطبہ میں فرماتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع