30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
در میں نماز نا جائز بتانا زیادت ہے ۔ ہاں امام کو مکروہ ہے منفرد کا اس حکم مین شریک کرنا ٹھیک نہیں ۔ خود حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جب کعبہ معظمہ میں تشریف لے گئے تو دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ۔ کماثبت فی الصحاح عن ابن عمر عن بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ اور امام کو در میں کھڑا ہونا بلا کر اہت جائز ماننا صحیح نہیں ۔ یونہی منفرد کا محراب میں قیام مکروہ جاننا کہ یہاں جو وجوہ کراہت علما ء نے لکھے ہیں ۔ یعنی شبہ اختلاف مکان امام و جماعت ، یا اشتباہ حال امام ، یا تشبہ اہل کتاب ، ان میں سے کوئی وجہ منفرد کیلئے متحقق
نہیں ۔ فتاوی رضویہ ۳/ ۴۳
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۹۷۵۔ الجامع للترمذی و حسنہ، باب ما جاء فی کراہیۃ الصف بین السواری، ۱/۳۱
المستدرک للحاکم و صحبہ، ۱/۲۱۰ ٭ المسند لاحمد بن حنبل ، ۳/۱۳۱
۹۷۶۔ عمدۃ القاری للعینی، قبیل باب الصلوۃ الی الراحلۃ
(۳) نماز میں قبلہ کی جانب تھوکنا منع ہے
۹۷۷۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم : اِذَا کَانَ أحَدُکُمْ یُصَلِّی فَلاَ یَصْبِقْ قِبَلَ وَجْہِہٖ ، فَاِنَّ اللّٰہَ
تَعَالیٰ قِبَلَ وَجْہِہٖ اِذَا صَلّی ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں کوئی نماز میں ہو تو سامنے کو نہ تھوکے کہ نمازی کے
سامنے اللہ عزوجل کا فضل وجلال اور رحمت و عظمت ہوتے ہیں ۔
]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اس حدیث کے تحت ائمہ دین فرماتے ہیں : نمازی پر واجب ہے کہ معظمین کے سامنے کھڑے ہونے میں جس بات میں انکی تعظیم جانتا ہے وہی ادب اپنی جانب قبلہ میں ملحوظ رکھے ۔
کہ اللہ عزوجل سب سے زیادہ احق تعظیم ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع