30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حین رأیتمونی تقدمت حتی قمت فی مقامی و لقد مددت یدی وانا ارید ان اتناول من ثمرہا لتنظرو الیہ ، ثم بدأ لی ان لا افعل ، فما من شیٔ توعدونہ الاقدر
أیتہ فی صلوتی ہذہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۹۶۲۔ الصحیح لمسلم ، کتاب الکسوف ، ۱/۲۹۷
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں سورج گرہن ہوا جس دن حضو ر کے فرزند ارجمند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا ۔ لوگوں نے اس پر کہا : یہ سورج گہن حضرت ابراہیم کے وصال کی وجہ سے ہوا ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور چھ رکوع اور چار سجدوں سے نماز پڑھائی ۔ اس طرح کہ تکبیر تحریمہ کہی پھر خوب لمبی قرأت کی ، پھر اتنی ہی دیر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر دو بارہ قرأت کی لیکن پہلی قرأت سے کم ، پھر اس قرأت و قیام کے برابر رکوع کیا ، پھر سر اٹھا یا اور دوسری قرأت سے کم قرأت کی ، پھر قیام کی مقدارر کوع کیا ۔ پھر سجدہ کیلئے جھکے تو دو سجدے کئے ۔ پھر کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ قرأت اور تین رکوع اس مرتبہ بھی کئے اس طریقے پر جس طرح پہلی رکعت میں کئے تھے کہ پہلا رکوع طویل ، دوسرا اس سے کم، اور تیسرا اس سے کم ، اور رکوع سجدہ کے برابر تھا ۔ پھر آپ پیچھے ہٹے اور صفوں کے تمام لوگ پیچھے ہٹنے لگے یہاں تک کہ ہم لوگ عورتوں کی صفوں کے قریب پہونچ گئے ۔ پھر حضور آگے بڑھے اور لوگ بھی آ پ کے ساتھ آگے بڑھے اور پہلے مقام پر پہونچ گئے ۔ پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کی موت سے گہن نہیں ہوتے ۔ جب تم ایسا دیکھو تو اس وقت تک نماز میں مشغول رہو جب تک یہ روشن نہ ہو۔ میں نے آج اس نماز میں ہر وہ چیز دیکھ لی جسکا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ میرے سامنے دوزخ لائی گئی ۔ اور یہ اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اس خوف سے کہ کہیں اسکی لو مجھے نہ لگ جائے ۔ دوزخ اتنی قریب تھی کہ میں نے اس میں آنکڑے والے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا ۔ وہ شخص دنیا میں حاجیوں کی چوری اس آنکڑے کے ذریعہ کیا کرتا تھا کہ اس میں کوئی کپڑا پھانس لیتا ۔ اگر مالک کو پتہ چل جاتا تو کہدیتا کہ میرے اس آنکڑے میں پھنس گئی ۔ اور اگر غافل رہ جاتا تو وہ چیز لیکر چلتا ہوتا ۔ اور میں نے اس دوزخ میں اس عورت کو بھی دیکھا جس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا ۔ نہ اسے کھانا دیا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع