30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے یوں عرض کرتے ہیں ۔ پھر فرمایا ) رب تبارک و تعالیٰ مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے ۔ اے میرے بندو!مانگو، کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کیلئے مانگوگے میں تمہیں عطا فرمائونگا ۔ اور جو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہار ے لئے نظر کرونگا ۔ (یعنی دنیا کی چیزیں خیر و شر دونوں کی متحمل ہیں ۔ اور آدمی اکثر اپنی نا دانی سے خیر کو شر ، شر کو خیر سمجھ لیتا ہے ۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ لہذا دنیا کیلئے جو کچھ مانگوگے اس میں بکما ل رحمت نظر فرمائی جائے گی ۔ اگر وہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطا ہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یا دعا قیامت کیلئے ذخیر ہ رکھیں گے اور یہ بندے کیلئے ہر صورت سے بہتر ہے ) مجھے اپنی عزت کی قسم جب تک تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرمائونگا ۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ، میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کرونگا ۔ پلٹ جائو مغفرت پائے ہوئے ۔ بیشک تم نے مجھے
راضی کیا اور میں تم سے خو شنود ہوا ۔
]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
فقیر غفرلہ القدیر کہتا ہے ۔ اس کلام مبارک کا اول’’ یا عبادی سلونی‘‘ ہے ۔ یعنی اے میرے بندو! مجھ سے دعا کرو۔ اور آخر انصرفوا مغفورا لکم ، یعنی گھروں کو پلٹ جائو کہ تمہاری مغفر ت ہوئی ۔ تو ظاہر ہوا کہ یہ ارشاد بعد ختم نماز ہوتا ہے کہ ختم نماز سے پہلے گھروں کو واپس جانے کا حکم ہر گز نہ ہوگا ۔ تو اس حدیث سے مستفا د کہ خود رب العزت جل و علا بعد نماز عید مسلمانوں سے دعا کا تقاضا فرماتا ہے ، پھر وائے بد بختی اسکی جو ایسے وقت مسلمانوں کو
اپنے رب کے حضوردعا سے روکے ۔’’ نسأ ل اللہ العفو و العافیۃ۔ آمین۔
فتاوی رضویہ ۳/۷۸۲
(۶) معذور عورتیں بھی عید کے دن دعا میں شریک ہوں
۹۵۸۔ عن اُم عطیۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : کنا نومران نخرج یوم العید
حتی تخرج البکر من خدرہا حتی تخرج الحیض فیکن خلف الناس فیکبرون
بتکبیرہم و یدعون بدعا ئہم یرجون برکۃ ذلک الیوم و طہرتہ۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عورتوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن باہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع