30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و الاضحی الی المصلی ، فاول شئی یبدأ بہ
الصلوۃ ثم ینصرف فیقوم مقابل الناس و الناس جلو س علی صفوفہم فیعظہم و
یوصیہم ، فان کان یرید أن یقطع بعثا قطعہ او یأمر بشیٔ أمر بہ ثم ینصرف۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عید الفطر اور عید اضحی کے دن عید گاہ تشریف لیجاتے ۔ سب سے پہلے نماز عید ادا فرماتے پھر پلٹ کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور لوگوں کے رو برو کھڑے ہو کر جبکہ لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوتے آپ وعظ فرماتے اور اچھے کاموں کی وصیت فرماتے ۔ پھر اگر کسی جگہ جہاد وغیرہ کیلئے کسی دستہ کو بھیجنا ہوتا تو اسکو منتخب فرماتے ۔ یا کسی دوسری چیز کا حکم دینا ہوتا تو حکم
صادر فرماتے پھر واپس تشریف لاتے ۔ ۱۲م
]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ سب حدیثیں ظاہر کرتی ہیں کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صدیق و فاروق و عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم نماز عید کا سلام پھیر کر کچھ دیر کے بعد خطبہ شرو ع فرماتے ۔
فتا و ی رضویہ ۳/۷۹۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۹۵۳۔ السنن للنسائی، باب حث الامام علی الصدقۃ فی الخطبۃ ، ۱/۲۳۴
۹۵۴۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب الخروج الی المصلی بغیر منبر، ۱/۱۳۱
۹۵۵۔ عن عبد اللہ بن السائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : حضرت بالعید مع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فصلی بنا العید ثم قال : قد قضینا الصلوۃ
فمن احب ان یجلس للخطبۃ فلیجلس و من احب ان یذہب فلیذہب ۔
حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ میں عید کی نماز میں حاضر ہوا تو حضور نے عید کی نماز پڑھائی۔ پھر فرمایا:
ہم نماز تو پڑھ چکے اب جو خطبہ سننے کیلئے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جاناچاہے چلا جائے۔
فتاوی رضویہ ۳/۷۹۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع