30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المسند لاحمد بن حنبل ، ۴/۱۶۱ ٭ السنن الکبری للبیہقی، ۳/۱۲۴
کنز العمال للمتقی، ۲۰۶۷۶، ۷/۶۴۱ ٭ ارواء الغلیل للالبانی ۲/۲۴۰
۹۱۲۔ السنن لابی داؤد، باب من صلی فی منزلہ الخ، ۱/۸۵
حضرت ابو اایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی
اپنے گھر نماز پڑھتا ہے پھر مسجد آتا اور جماعت قائم ہوتی تو میں انکے ساتھ بھی پڑھ لیتا،لیکن میرے دل میں یہ بات کھٹکتی ۔فرماتے ہیں :میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس
بارے میں پوچھا تو آ پ نے فرمایا : انکے ساتھ پڑھنے سے جما عت کی فضیلت حاصل ہوگی ۔
۹۱۳۔ عن یزید بن الأسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اِذَا صَلَّی أحَدُکُمْ فِی رَحْلِہٖ ثُمَّ أدْرَکَ الصَّلٰوۃَ مَعَ الْاِمَامِ فَلْیُصَلِّھَا
مَعَہٗ فَاِنَّھَا لہٗ نَافِلَۃٌ ۔ فتاوی رضویہ ۳/۳۶۷
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم سے کوئی اپنی جائے قیام پر نماز پڑھ چکے پھر اسے امام کے ساتھ
بھی نماز کا موقع ملے تو پڑھ لے کہ یہ اسکے لئے نفل ہوگی ۔۱۲م
۹۱۴۔عن نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رجلا سأل عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فقال: انی اصلی فی بیتی ثم ادرک الصلوۃ مع الامام افاصلی معہ فقال لہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما: نعم، قال الرجل : ایتھما اجعل صلوتی۔
فقال لہ ا بن عمر : او ذالک الیک ،انما ذلک الی اللہ یجعل ایتہما شائ۔
فتاوی رضویہ ۳/۳۶۷
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کہ میںاپنے گھر نماز پڑھ لیتا ہوں پھرامام کے ساتھ بھی اس نماز کا اتفاق ہو جاتا ہے تو کیا میں آپکے ساتھ بھی پڑھ لوں ؟فرمایا:ہاں ، اس شخص نے کہا : میں دونوں نمازوں میں اپنی فرض نماز کس کوسمجھوں؟فرمایا: کیا یہ تیرے اختیار میں ہے۔یہ تو اللہ
تعالیٰ کی مشیت پر ہے جسے وہ فرض کی جگہ قبول فرمالے۔ ۱۲م
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع