30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہترین نمونۂ عمل نہیں ۔ یہ سنکر انہوں نے اپنی مطلقہ بیوی سے رجعت کر لی اور لوگوں کو گواہ بھی کرلیا ۔پھر یہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حضور کی نماز وتر کی کیفیت معلوم کرنے آئے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی ذات کی نشاندھی نہ کردوں جو تمام اہل زمین سے زیادہ حضور کے وتر کو جانتی ہیں ۔پوچھا وہ کون ہیں ۔فرمایا :ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ ، رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، لہٰذا تم ان سے پوچھو اور پھر مجھے بھی بتانا کیا جواب مرحمت فرمایا ۔ میں انکے پاس چلدیا لیکن حکیم بن افلح کو ساتھ لے جانے کیلئے انکے پاس گیا کہ وہ مجھے ام المؤمنین کی خدمت میں لے چلیں ۔ انہوں نے کہا : میں انکی خدمت میں حاضر ہونا نہیں چاہتا ، کیونکہ میں نے انکو جنگ جمل وغیرہ میں شرکت سے روکا تھا لیکن وہ نہیں مانیں ۔حضرت زرارہ کہتے ہیں : میں نے انکو قسم دی تو وہ آئے اور ہم سب حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوکر اجازت کے طالب ہوئے ۔ اذن ملا تو اندر پہونچے ۔ حضرت صدیقہ نے فرمایا : کیا یہ حکیم ہیں ؟ یعنی آپ نے پہچان لیا ۔ پھر فرمایا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ حضرت حکیم نے عرض کیا: یہ سعد بن ہشام ہیں ۔ فرمایا : ہشام کون سے ؟ کہا : عامر کے بیٹے ۔یہ سنکر آپ نے انکے لئے دعائے رحمت کی اور بھلائی سے یاد کیا ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں :حضرت ہشام جنگ احد
میں شہید ہوئے تھے ۔ میں نے عرض کیا : اے ام المومنین ! مجھے حضور سید عالم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خلق کریم کے بارے میں بتایئے ۔فرمایا : کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔فرمایا: تو سنو !حضور کا خلق کریم وہی تھا جو سب کچھ قرآن میں ہے ۔ کہتے ہیں میں نے یہ جواب سنکر چلنے کا ارادہ کیا اور یہ بھی کہ اب کسی سے پوری زندگی کچھ نہ پوچھونگا ۔لیکن میں نے بیساختہ ایک بات اور عرض کردی کہ مجھے حضور کی شب بیداری کے بارے میں اور بتادیں ۔ فرمایا : کیاتم نے ’یا ایہا المزمل ‘ نہیں پڑھی ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ۔فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں رات کے قیام کو فرض کیا ۔اس پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ایک سال تک عمل کیا کہ اس دوراں آخری حکم آسماں سے نازل نہیں ہوا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مکمل سورۃ نازل فرمادی اور قیام شب میں تخفیف فرمادی گئی ۔تو قیام لیل اب نفل ہے ۔ پھر میں نے عرض کیا : اے ام المومنین ! مجھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نماز وترکے بارے میں خبر دیجئے ۔ آپ نے فرمایا : ہم آپ کیلئے مسواک اوروضو کا پانی تیار رکھتے اور اللہ تعالیٰ جب چاہتا آ پ رات کو بیدار ہوتے اور مسواکے ساتھ وضو فرماتے ۔پھر نو رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے اس طرح کہ آٹھویں رکعت پر قعدہ فرماتے ۔ اس قعدہ میںاللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کرتے اور خوب دعا کرتے پھر کھڑے ہوجاتے اور نویں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع