30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹۰۰۔ المسند لاحمدبن حنبل ، ۶/۵۴
۹۰۱۔ الصحیح لمسلم ، باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات ، ۱/۲۵۶
فقالت : أحکیم فعرفتہ فقال : نعم ، فقالت : من معک ،قال : سعدبن ہشام ،قالت : من ہشام ؟ قال : ابن عامر ،فترحمت علیہ وقالت خیرا ، قال قتادۃ : وکان اُصیب یوم اُحد ،فقلت : یااُم المومنین ! أنبئنی عن خلق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،قالت : الست تقرء القرآن ،قلت : بلی ؟ قالت : فاِن خلق نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کان القرآن ، قال : فہمت أن أقوم ولا أسال أحدا عن شیٔ
حتی أموت ،ثم بدالی فقلت : أنبئنی عن قیام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
فقالت : ألست تقرء ! یا أیہا المزمل ، قلت بلی ؟ قالت فان اللہ عزوجل افترض قیام اللیل فی أول ہذہ السورۃ فقام نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و أصحابہ حولا و أمسک اللہ خاتمتہا اثنی عشر شہرا فی السماء حتی أنزل اللہ فی آخر ہذہ السورۃ التخفیف و فصار قیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ قال : قلت یا اُم المؤمنین ! انبٔنی عن و تر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقالت : کنا نعد لہ سوکہ و طہورہ فیبعثہ اللہ ما شاء أن یبعثہ من اللیل فیتسوک و یتوضا و یصلی تسع رکعات لا یجلس فیہا الا فی الثامنۃ فیذکر اللہ بحمدہ و یدعو ہ ثم ینہض و لا یسلم ثم یقوم فیصلی التاسعہ ثم یقعد فیذکر اللہ و یحمدہ و یدعوہ ثم یسلم تسلیما یسمعنا ثم یصلی رکعتین بعد ما یسلم و ہو قاعد فتلک احدی عشرۃ رکعۃ یا بنی فلما أسن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و أخذہ اللحم أوتر بسبع و صنع فی الرکعتین مثل صنعہ أول فتلک تسع یا بنی !وکان نبی اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اذا صلی صلوۃأحب أن یدا وم علیہ وکان اذا غلبہ نوم او وجع عن قیام اللیل صلی من النہار ثنتی عشر رکعۃ ولا أعلم نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرأ القرآن کلہ فی لیلۃ ولا صلی لیلۃ الی الصبح و لا صام شہر اً کاملاً غیر رمضان، قال :فانطلقت الی ابن عباس فحدثتہ بحدیثہا فقال : صدقت، لو کنت أقربہا أو أدخل علیہا لأ تیتہاحتی تشافہنی بہ ،قال : فقلت: لو علمت انک لا تد خل علیہا
ما حدثتک حدیثہا۔ فتاوی رضویہ ۳/۴۵۵
حضرت زراہ بن اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جہاد کا ارادہ کیا تو مدینہ اس لئے آئے کہ یہاں کی جائداد فروخت کر دیں اور اس سے ہتھیار اور گھوڑے خریدیں اور پھر نصاری سے جہاد کیلئے جائیں یہاں تک کہ شہید ہوجائیں ۔مدینہ میں چند حضرات سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے تارک دنیا ہونے سے منع کیا اور بتایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اس طرح کا ارادہ چھ حضرات نے کیاتھا تو حضور نے منع فرمادیا اور فرمایا : کیا تمہارے لئے میری ذات میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع