30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَنَکْتُبُ مَاقَدَّمُوا وَ آثَارَہُمْ وَکُلَّ شَیْئٍ أحْصَیْنٰہُ فِی اِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔
اور جسے یہ وثوق نہ ہو وہ مسجد میں پڑھ لے کہ لحاظ افضلیت میں اصل نماز فوت نہ ہو ۔ اور یہ معنی عارضی افضلیت صلوۃ فی البیت کے منافی نہیں ۔نظیر اسکی نماز وتر ہے کہ بہتر اخیر شب تک اسکی تاخیر ہے ۔ مگر جو اپنے جاگنے پر اعتماد نہ رکھتا ہو وہ پہلے پڑھ لے ۔کما فی کتب
الفقہ ۔
مگر اب عام عمل اہل اسلام سنن کے مساجد ہی میں پڑھنے پر ہے اور اس میں مصالح ہیں کہ ان میں وہ اطمینان کم ہوتا ہے جو مساجد میں ہے اور عادت قوم کی مخالفت موجب طعن و انگشت نمائی انتشار ظنون وفتح باب غیبت ہوتی ہے اور حکم صرف استحبابی تھا تو ان مصالح کی
رعایت اس پر مرجح ہے ۔ ائمہ دین فرماتے ہیں ۔
الخروج عن العادۃ شہرۃ ومکروہ۔
معمول کے خلاف کرنا شہرت اور مکروہ ہے ۔ فتاوی رضویہ قدیم ۳/۴۵۹
فتاوی رضویہ جدید ۷/۴۱۶
(۵) امام و مقتدی کانوافل دوسری جگہ ہٹ کر پڑھنا افضل ہے
۸۸۹ ۔عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : لاَ یُصَلِّی الْاِمَامُ فِی مَقَامِہِ الَّذِی صَلّی فِیْہِ الْمَکْتُوْبَۃَ حَتٰی
یَتَنَحّٰی عَنْہُ ۔ الاسد الصئول ۔ ص ۱۱
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی امام اس جگہ نفل وسنت ادا نہ کرے جس مقام پر کھڑے ہو کر فرض
نماز پڑھائی، یہاں تک کہ اس مقام سے جدا ہوجائے ۔ ۱۲م
۸۹۰ ۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :أیَعْجِزُ أحَدُکُمْ أنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَأخَّرَ أوْ عَنْ یَمِیْنِہٖ أوْ عَنْ شِمَالِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ
یَعْنِی السُّبْحَۃَ ۔ ا لاسد الصئول ص ۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع