30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۴[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث اور دیگر احادیث قنوت فجر ، بر خلاف شافعیہ کہ انہیں فجر میں دوام قنوت کی دلیل ٹھہراتے ہیں صریح نوازل میں وارد، ان پر محمول ، پس حاصل یہ کہ جناب سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وقت نزول شدائد دواماً قنوت پڑھی ۔ اور جب وہ بلا دفع ہو جاتی بوجہ ارتفاع ضرورت ترک فرماتے اور مشروعیت اس قنوت کی کتب حنفیہ میں بھی مصرح جیسا کہ اشباہ ودر مختار و بحر الرائق وغایت و ملتفظ وسراج وہاج وشرح نقایہ شمنی وفتح القدیر ابن الہمام وکلام رئیس الحنفیہ امام ابو جعفر بن سلامہ طحاوی وغیرہ سے ثابت ، متون میں غیر وتر میں قنوت
پڑھنا ممنوع ٹھرایا، شارحین کرام نے قنوت نوازل کو اس سے استثنا ء فرمایا ۔
یہاں سے ظاہر ہے کہ اختلاف شافعیہ و حنفیہ دربارئہ قنوت فجر کہ وہ علی الدوام حکم دیتے ہیں اور ہم انکار کرتے ہیں غیر نوازل میں ہے ۔ نہ قنوت نوازل میں ، اور بلاشبہ طاعون ووبا اشد
نوازل سے ہیں اور انکے عموم میں داخل ۔ پس اگر امام دفع طاعون ووبا کیلئے نماز فجر میں قنوت
پڑھے تو اسکے جواز و مشرعیت میں کوئی شبہ نہیں ۔
اسکے لئے کوئی دعا مخصوص نہیں بلکہ جو بلا مثل طاعون ووبا یا غلبئہ کفار والعیاذ باللہ تعالیٰ ، اسکے دفع کی دعا کی جائیگی ۔ تحقیق یہ ہے کہ قنوت صرف نماز فجر میں ہے ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ فجر کی دوسری رکعت میں بعد قرات قبل رکوع ۔ کیونکہ رکوع کے بعد قنوت کا محل نہیں ہے جیسا کہ محقق نے اسے فتح میں ثابت کیا ہے ۔ اور امام و مقتدی سب آہستہ پڑھیں ۔ کیونکہ وہ دعا ہے اور دعا کا طریقہ اخفا ہے ۔ جن مقتدیوں کو یاد نہ ہو وہ آہستہ آہستہ آمین کہیں ۔ واللہ تعالیٰ
اعلم ، فتاوی رضویہ ۳/۵۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۸۰۔ المصنف لعبد الرزاق، باب القنوت ، ۲/۱۱۰
السنن للدار قطنی، باب صفۃ القنوت ، ۲/۳۹
۱۴۔ نوافل
(۱) سنن و نوافل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع