30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معنی تو غیر خدا کیلئے ہی خاص ہیں ۔ اللہ عزوجل وسیلہ و توسط بننے سے پاک ہے۔ اس سے اوپرکون ہے کہ یہ اسکی طرف وسیلہ ہوگا ،اور اسکے سوا حقیقی حاجت روا کو ن ہے کہ یہ بیچ میں وا سطہ ہوگا ۔ اہل اسلام انبیاء و اولیاء علہیم الصلوۃ و السلام سے یہ ہی استعانت کرتے ہیں جو اللہ عزوجل سے کیجئے تو اللہ اور اسکا رسول غضب فرمائیں ،اور اسے اللہ جل و علا کی شان میں بے ادبی ٹھہرائیں ، اور حق تو یہ ہے کہ اس معنی کا اعتقاد کر کے جناب الہی جل و علا سے کرے تو کافر ہوجائے۔ مگر وہابیہ کی بدعقلی کو کیا کہیئے نہ اللہ کا ادب ،نہ رسول سے خوف ،نہ ایمان کا پاس۔ خواہی نخواہی اس استعانت کو ’’ إیِاکَ نَسْتَعِیْنُ ‘‘ میں داخل کر کے جو اللہ عزوجل کے
حق میں محال قطعی ہے اسے اللہ تعالیٰ سے خاص کئے دیتے ہیں ۔ ایک بیوقوف وہابی نے کہا تھا:
وہ کیا ہے جو نہیں ملتا خدا سے جسے تم مانگتے ہو اولیاء سے
فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ نے کہا :
توسل کر نہیں سکتے خدا سے اسے ہم مانگتے ہیں اولیا ء سے
یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ خداسے توسل کر کے اسے کسی کے یہاں وسیلہ بنایئے اسی وسیلہ
بننے کو ہم اولیاء کرام سے مانگتے ہیں ۔ کہ وہ بارگا الہی میں ہمارا وسیلہ و ذریعہ وواسطہ قضائے حاجات ہو جائیں ۔ اس بے وقوفی کا جواب اللہ عزوجل نے اس آیت کریمہ میں دیا
و لو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروا اللہ و استغفر لہم الرسول لو جدوا اللہ توابا رحیما ۔ اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ کر کے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ سے معافی چاہیں ۔ اور معافی مانگے انکے لئے رسول توبے شک اللہ کو توبہ قبول کرنے
والا مہربان پائیں گے۔
کیا اللہ اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا ؟ پھر کیوں فرمایاکہ اے نبی! تیرے پاس حاضر ہوں ، اور تو اللہ سے انکی بخشش چاہے تو یہ دولت و نعمت پائیں گے۔یہ ہی ہمارا مطلب ہے جو
قرآن کی آیت صاف فرمارہی ہے۔ مگر وہابیہ تو عقل نہیں رکھتے ۔
خدا را انصاف! اگر آیت کریمہ ’ ایاک نستعین ‘‘میں مطلق استعانت کا ذات الہی جل و علا میں حصر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع