30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لہٰذا قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکرو ثنا ومناجات ودعا ہوں اگر چہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی ۔ متعدد آیات کاملہ جیسے سورئہ حشر کی اخیر تین آتیں ۔ بلکہ پوری سورۃ جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکرو دعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب و حائض و نفساء سب کو جائز ہے ۔
اسکی نظیر یہ ہے کہ نماز میں کسی کلام سے اگر چہ آیت یا ذکر الٰہی ہو ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے باہر ہے مفسد نماز ہے ۔ مثلا کسی خوشی کی خبر کے جواب میں کہا ۔ الحمد للہ رب العٰلمین ، یا خبر غم کے جواب میں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ، یاکسی نے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے اسکی خوبی بتانے کو کہا ۔ سبحان اللہ ، نماز جاتی رہیگی ۔ مگر کسی شخص نے آواز دی اور اس نے یہ جتانے کو کہ میں نماز پڑھتا ہوں ، لا الہ الا اللہ ، یا سبحان اللہ ، یا اسکے مثل ذکر یا قرآن عظیم سے کچھ کہا نماز نہ جائے گی کہ شرع مطہر نے اس حاجت کے دفع کو اتنے کی اجازت عطافر مادی
ہے ۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/
(۳) قنوت نازلہ کا بیان
۸۷۴ ۔عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم لا یقنت فی الصبح الا أن یدعو لقوم أو علی قوم ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز صبح میں قنوت نہ پڑھتے مگر جب کسی قوم کیلئے انکے فائدہ کی دعا فرماتے یاکسی قوم پر انکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۷۴۔ مرقاۃ المفاتیح للقاری، باب القنوت ، ۳/۱۸۲
نقصان کی دعا کرتے ۔
]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
فتح القدیر ۔ غنیہ اور مرقات شرح مشکوۃ میں فرمایا : وھو سند صحیح ، یہ سند صحیح ہے
۸۷۵ ۔عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان النبی صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم کان لا یقنت الا دعا لقوم او دعا علی قوم ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع