30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسقدرشریعت مطہرہ سے مناقضت ہے ۔ شرع مطہرہ کاقاعدہ ہے کہ جلب مصلحت پر سلب مفسدہ کو مقدم رکھتی
ہے ۔ فتاویٰ رضویہ ۴/۱۷۰
امام قاضی سے استفتاء ہو اکہ عورتوں کا مقابر کا جانا جائزہے یا نہیں ؟فرمایا:ایسی جگہ جواز وعدم جواز نہیں پوچھتے ۔ یہ پوچھ کہ اس میں عورتوں پر کتنی لعنت پڑتی ہے ۔ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے اللہ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے ۔ جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں ۔ جب قبر تک پہونچتی ہے میت کی روح اس پر
لعنت کرتی ہے ۔ جب واپس آتی ہے اللہ کی لعنت میں ہوتی ہے ۔
حضرت سیدنا زبیربن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ مقدسہ صالحہ عابدہ زاہدہ تقیہ نقیہ حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حاضری مسجد کریم مدنیہ طیبہ سے باز رکھا ۔ ان پاک بی بی کو مسجد کریم سے عشق تھا ، پہلے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ قبل نکاح امیر المؤمنین سے شرط کرالی کہ مجھے مسجد سے نہ روکیں ۔ اس زمانئہ خیر میں محض عورتوں کی ممانعت قطعی جزمی نہ تھی جسکے سبب بیبیوں سے حاضری مسجد اور گاہ گاہ زیارت بعض
مزارات بھی منقول ۔
۸۷۰ ۔عن اُم عطیۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : نہینا عن اتباع الجنائز ولم یعزم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۷۰۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب اتباع النساء الجنازۃ، ۱/۱۷۰
علینا ۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں جنازوں کے پیچھے
جانے سے منع کیا گیا لیکن اس میں شدت نہیں برتی گئی ۔
اس پر غنیہ میں فرمایا : یہ اس وقت تھا جب حاضری مسجد انہیں جائز تھی ۔ اب حرام اور
قطعی ممنوع ہے ۔
غرض اس وجہ سے امیر المومنین نے انکی شرط قبول فرمالی ۔ پھر بھی چاہتے یہ تھے کہ یہ مسجد نہ جائیں ۔ یہ کہتیں آپ منع کردیں میں نہ جائونگی ۔ امیر المومنین یہ پابندی شرط منع نہ کرتے ۔ امیر المومنین کے بعد حضرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع