30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وکان زوج اختہا غزا مع النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ثنتی عشرۃ غزوۃ وکانت اختی معہ فی ست ، قالت : فکنا نداوی الکلمی ونقوم علی المرضی فسالت أختی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أعلی اِحدٰنا باس اذا لم یکن لہا جلباب أن لا تخرج ، قال : لتلبسہا صاحبتہا من جلبابہا ولتشہد الخیر ودعوۃ المومنین ، فلما قدمت ، ام عطیۃ سالتہا أسمعت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم؟ قالت : بأبی ، نعم ، وکانت لاتذکرہ الا قالت بأبی ، سمعتہ یقول : تَخْرُجُ الْعَواِتقْ
وَذَوَاتُ الْخُدُوْرِ وَالْحُیَّضُ وَلْیَشْہَدْنَ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُؤمِنیْنَ، وَتَعْتَزِلُ الْحُیِّضُ الْمُصَلّی قالت: حفصۃ ، فقلت الحیض ، فقالت : الیست تشہد عرفۃ وکذا وکذا۔
ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ہم اپنی جوان عورتوں کو عیدین میں جانے سے منع کیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت آئی اورقصر بنی خلف میں
قیام کیا۔ اس نے اپنی بہن سے روایت بیان کی اسکے بہنوئی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی اور چھ غزوات میں میری بہن بھی انکے ساتھ تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۶۶۔ السنن لابی داؤد ، باب ما جاء فی خروج النساء الی المساجد ، ۱/۸۴
۸۶۷۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب شہود الحائض لعیدین ، الخ، ۱/۴۶
انہوں نے کہا کہ ہم زخمیوںکی مرہم پٹی کیا کرتیں اور بیماروں کی تیمار داری کے فرائض انجام دیتیں ۔ ایک بارمیری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پوچھا ہم میں سے کسی کے پاس اگربرقع نہ ہو تو اسے نہ نکلنے میں کیا حرج ہے ؟ آپ نے فرمایا : سہیلی کو چاہئے کہ وہ ا سے ا پنا برقع اڑھادے اور اسے چاہئے کہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو ۔ ام المومنین فرماتی ہیں : جب ام عطیہ آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کیا یہ حدیث تم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟وہ بولیں ، ہاں ۔ میرے باپ آپ پر قربان ۔ اور ام عطیہ جب حضور کا تذکرہ کرتیں تو یہ ضرو کہتیں ۔ میرے باپ آپ پر قربان ۔ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ۔ جوان پردہ نشین اور حائضہ عورتیں باہر نکلیں اور محافل خیر اور مسلمانوں کی دعامیں شریک ہوں ۔ صرف حائضہ عورتیں عید گاہ سے الگ رہیں ۔ حضرت حفصہ فرماتی ہیں :حیض والی عورتیں بھی نکلیں ۔ام
عطیہ نے کہا: کیا عرفات اورفلاں فلاں کام میں نہیں آتیں ۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/۱۱۲
۸۶۸ ۔عن ام عطیۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : امرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان نخرجھن فی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع