30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۱۲۔ الجامع للترمذی ، باب ما جاء من ام قوما و ہم لہ کارہون ، ۱/۴۷
۸۱۳۔ السن لابی داؤد ، باب امامۃ الاعمی ، ۱/۸۸
(۷) فاسق وفاجر کی اقتدا بحالت مجبوری جائز ہے
۸۱۶۔ عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لاَ یَؤُمَّنَّ فَأجِرٌمُوْمِنًا اِلاَّ أنْ یَّقْہَرَہٗ بِسُلْطَانِہٖ یَخَا فُ سَیْفَہٗ أوْ
سَوْطَہٗ ۔ فتاوی رضویہ ۳/۱۵۵
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز کوئی فاجر مومن کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ وہ اسے اپنی
سلطنت کے زور سے مجبور کردے کہ اسکی تلوار یا تازیانہ کا ڈر ہو۔
۸۱۷ ۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : صَلُّواخَلْفَ کُلِّ بَرٍّ وَّفَاجِرٍ، وَصَلُّوا عَلیٰ کَلِّ بَرٍّ وَّفَاجِرٍ، وَجَا ہِدُوْا مَعَ
کُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نیک وبد کے پیچھے نماز پڑھ لو ، اور ہر نیک وبد پر نماز پڑھو ، اورہر
نیک وبد کے ساتھ جہاد کرو ۔
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ جواز اس معنی پر ہے کہ فرض اتر جائیگا نہ کہ کوئی کراہت نہیں ۔ شامی میں صراحت ہے کہ فاسق و مبتدع کے پیچھے نماز مکروہ ومنع ہے ۔ اصل یہ ہے کہ نماز عام کی امامت سلاطین خود کرتے تھے یا جسے وہ مقرر کریں ۔ اور بعض وقت حکام بد مذہب اور فاسق بھی ہوئے ۔ انکے پیچھے نماز نہ پڑھنے سے وہی اندیشہ تھا تلوار اور تازیانہ کا جو حدیث میں گذرا۔ اسی بنا پر یہ حدیث آئی کہ ضرورت کے وقت پڑھ لے ۔ او ر علمانے فرمایا ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ اس کا فسق حد کفر تک نہ پہونچا ہو اور کوئی مرد صالح موجود نہ ہو ۔ دیکھو اشعۃ اللمعات ، پھر اسکے نیچے صاف لکھ دیا کہ انکے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ دیکھو مرقا ت شرح مشکوۃ ۔ علاوہ بریں اس حدیث کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع