30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلا صہ کلام یہ ہے کہ اشعث بن سوارکی توثیق کی گئی ہے اور کبھی ان پر جرح وقدح نہیں
ہوئی ۔ بلکہ جرح مفسر اصلا منقول نہیں ۔ تو انکی حدیث حسن ہے ۔ اسی لئے امام عینی نے فرمایا: حدیث مذکورکی سند جید ہے ۔
غمزا لعیون والبصائر میں ہے ۔
لایمنع من دخول المسجد الذمی الکتابی بخلاف غیرہ واحتج لہ الامام
بما رواہ احمد عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔
ذمی کتابی کو مسجد میں آنے سے نہ روکا جائیگا بخلاف دیگر کافر کے ۔ اور اس پر امام اعظم
اس حدیث سے سند لائے جو امام احمد نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔
غایۃ البیان علامہ اتقانی کتاب القضاء میں ہے ۔
قال شمس الائمۃ السرخسی فی شرح ادب القاضی وقدذکر فی السیر الکبیر ان المشرک یمنع من دخول المسجد عملا بقول اللہ تعالیٰ : انماالمشرکون
نجس ۔
امام شمس الائمہ سرخسی نے شرح ادب القاضی میں فرمایا کہ امام محمد نے سیر کبیر میں فرمایا ہے : مشرکوں کو مسجد میں نہ آنے دیا جائیگا ۔ اس ارشاد الٰہی پر عمل کرتے ہوئے کہ ’’ مشرک نرے
ناپاک ہیں‘‘ ۔
نیز مشرکین عرب کو ذمی بنانا روانہ تھا ۔ ان پرصرف دو حکم تھے ۔ اسلام لائیں ورنہ تلوار ۔ تو وہاں ذمی نہ تھے مگر کتابی ۔ تو استثنا ء منقظع ہے ۔ اوردوسری حدیث نے صاف کتابی کی
تصریح کردی ۔ فللہ الحمد ۔
اس حدیث حسن نے صاف ارشاد فرمایا کہ اس سے پہلے جو کسی مشرک یا کافر غیر ذمی کیلئے اجازت تھی منسوخ ہوگئی کہ فرمایا : بعد عامنا ہٰذا ۔ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ آنے
پائے سواذمی کے ۔
مخالفین جتنی روایات پیش کریں ان پر لازم ہے کہ اس واقعہ کے بعد اس ارشاد کے بعد ہونے کا ثبوب دیں ورنہ سب جوابوں سے قطع نظر ایک سیدہا سا یہی جواب بس ہے کہ وہ منسوخ ہوچکا اور وہ ہر گز اسکا ثبوت نہیں دے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع