30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وفدثقیف فی المسجد جوازہ
ویحرر۔
غور طلب ہے کہ مستامن اور حربیوں کا ایلچی بھی (کہ وہ بھی مستامن ہوتا ہے) اس حکم میں ذمیوں کے مثل ہے یا نہیں ۔ علماء کہ جواز پر اس سے دلیل لائے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وفد ثقیف کو مسجد شریف میں اتارا۔ یہ مستامن کیلئے جواز چاہتا ہے ۔ بات ہنوز
تحقیق طلب ہے ۔
اقول: مستامن کیلئے خود قرآن کریم سے اشارہ نکال سکتے ہیں ۔ کہ
ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ
مامنہ ۔
اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو کہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے
اسکی امن کی جگہ پہونچادو ۔
حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے کوئی مجلس نہ تھی سوا مسجد کریم کے ۔ ولہٰذا وفود یہیں
حاضر ہوتے ۔اور اس میں متون کا خلاف نہیں ۔ ہدایہ میں ہے ۔
مستامن جب تک دارالاسلام میں ہے بمنزلۂ ذمی ہے ۔ ذمہ مؤبدہ اور مؤقتہ دونوں
ہوتا ہے ۔
کافی امام نسفی فصل امان میں ہے ۔
المراد بالذمۃ العہد مؤقتا کان او مؤبدا وذلک الامان وعقد ہ الذمۃ ۔
ذمہ سے عہد مراد ہے ایک میعاد معین تک ہو یا ہمیشہ کیلئے ۔ یہ امان و عقدذمہ ہے ۔
یہیں کہہ سکتے ہیں کہ ذمی اور حربی برابر ہیں ۔ یعنی مستامن کہ اسکے لئے بھی ایک وقت
تک ذمہ ہے ۔
با لجملہ جواز خاص ذمی کیلئے تھا اور یہ حربی لے دوڑے ۔
امام بدرالدین محمود عینی وغیرہ اکابر کی روایت ہے کہ ہمارے امام مذہب سیدنا امام
اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں ذمیوں میں بھی جواز صرف کتابی کے لئے ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع