30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس جناب نے یہ لقب قبول فرمایا ۔ اور ان کے زمانہ میں فقہاء و علماء و
محدثین کے اکابر و عمائد تھے ان میں کسی سے بھی اس کا انکار منقول نہ ہوا۔
اب ثابت ہوا کہ وہ (حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو شہنشاہ کہنے پر ) طعن نہ فقط انہیں ائمہ و فقہاء و اولیاء پر ہوگا جن سے لفظ شہنشاہ کی سند یں بے شمار کتب میں مذکور ،بلکہ ائمئہ تبع تابعین اور انکے اتباع اور امام مذہب حنفی ابو یوسف اور اس وقت سے آج تک کے تمام علمائے حنفیہ اور بکثرت علمائے بقیہ مذاہب سب پر طعن لازم آئے گا ۔ اور اس پر جرأت ظلم شدید
اور جہل مدید ہوگی ۔
لا جرم بات وہی ہے کہ لفظ جب ارادۃً و افادۃً ہر طرح شناعت سے پاک ہے تو صرف احتمال باطل اسے ممنوع نہ کر دے گا ورنہ سب سے بڑھ کر نماز میں ’’تعالیٰ جدک ‘‘ حرام ہو کہ
دوسرے معنی کس قدر شنیع وفضیح رکھتا ہے ۔
ہاں صدر اسلام میں کہ شرک کی گھٹائیں عالمگیر چھائی ہوئی تھیں، نقیر و قطمیر کے ساتھ نہایت تدقیق فرمائی جاتی کہ توحید بر وجہ اتم اذہان میں متمکن ہو ۔ ولہذا نہ فقط شہنشاہ بلکہ أنت سیدنا کے جواب میں ارشاد فرمایا ’ ألسید اللہ ‘ سید اللہ ہی ہے ۔ ابو الحکم کنیت رکھنے کو منع فرمایا۔
حالانکہ یہ الفاظ و اوصاف غیر خدا کیلئے خود قرآن عظیم و احادیث و اقوال علماء میں بکثرت وارد ۔
وہابیہ و خوارج اسی نکتئہ جلیلہ سے غافل ہو کر شرک شرک و کفر میں پڑے ۔اللہ تعالیٰ تو ’’ إن الحکم اِلاللہ‘‘ حکم اللہ ہی کا ہے ۔ فرماتا ہے ۔ مولیٰ علی نے کیسے ابو موسی کو حکم فرمایا ۔ ( یہ مقولئہ
خوارج ہے )
اللہ تعالیٰ تو ’’ إیّاکَ نَسْتَعِیْنُ ‘‘ فرماتا ہے ۔ مسلمانوں نے انبیا و اولیا سے کیسے استعانت کی ۔ اللہ تعالیٰ تو’’ قُلْ لاَ یَعْلَمُ ألآیَۃ ‘‘ فرماتا ہے اہل سنت نے کیسے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے
اطلاع غیوب مان لی ۔ ( یہ وہابیہ کے اقوال ہیں )
ان اندھو ں نے نہ جانا کہ وہی خدا ئے تعالیٰ ’’ فَابْعَثُو ا حَکَماً ‘‘ ایک پنچ بھیجو، فرماتا ہے ۔ اور
’’ تَعَاوَنُو عَلی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی ‘‘ اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو ۔ اور ’’إسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع