30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی دنیا کی بات جب کہ فی نفسہ مباح اور سچی ہو مسجد میں بلاضروت کرنی حرام ہے ۔ ضرورت ایسی جیسے معتکف اپنی حوائج ضروریہ کے لئے بات کرے ، پھر حدیث مذکور ذکر کرکے فرمایا ۔ معنی حدیث یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ انکے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ کریگا ۔اور وہ نا مراد ، محروم ،
زیاں کار ، اور اہانت وذلت کے سزاوار ہیں ۔
مروی ہے کہ ایک مسجد اپنے رب کے حضور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دنیا کی
باتیں کرتے ہیں ۔ ملائکہ اسے آتے ملے اور بولے ہم انکے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں ۔
روایت ہے کہ جو لوگ غیبت کرتے ہیں (جو سخت حرام اور زناسے بھی اشدہے ) اور جو لوگ مسجدمیںدنیاکی باتیں کرتے ہیں انکے منہ سے وہ گندی بدبو نکلتی ہے جس سے فرشتے اللہ
عزوجل کے حضور انکی شکایت کرتے ہیں ۔
سبحان اللہ ، جب مباح وجائز بات بلاضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں تو حرام وناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا ۔ مسجد میں کسی چیز کا مول لینا ۔ بیچنا ، خریدو فروخت کی گفتگو کرنا ناجائز ہے ۔ مگر معتکف کو اپنی ضرورت کی چیزمول لینی وہ بھی جبکہ مبیع مسجد سے باہر ہی رہے مگر ایسی خفیف ونظیف وقلیل شیٔ جس کے سبب نہ مسجد میں جگہ رکے نہ اسکے ادب کے خلاف ہو اوراسی وقت اسے اپنے افطار و سحری کیلئے درکار ہو ۔ تجارت کیلئے بیع و شراء کی
معتکف کو بھی اجازت ہیں ۔ فتاوی رضویہ ۶/۴۰۳
(۱۰) مسجدوں میں نا سمجھ بچوں کو نہ لائو
۷۵۳۔ عن واثلۃ بن الأسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان النبی صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم قال : جَنِّبُوا مَسَاجِدَ کُمْ صِبْیَانَکُمْ وَمَجَانِیْنَکُمْ وَشِرَآئَکُمْ وَبَیْعَکُمْ وَ
خُصُوْمَاتِکُمْ وَرَفْعَ أصْوَاتِکُمْ ۔
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی مسجدوں کو بچائو اپنے نا سمجھ بچوں اور مجنونوں کے جانے اور
خریدو فرخت اور جھگڑوں اور آواز بلند کرنے سے ۔ فتاوی رضویہ ۶/۴۰۴
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع