30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاستذکار لابن عبد البر ، ۱/۱۵۲ ٭ احکام النبوۃ للکحال، ۲/۱۴۲
۷۵۱۔ السنن لابن ماجہ، باب ما یکرہ فی المساجد ، ۱/۵۵
۷۵۲۔ الصحیح لابن حبان ، ۳۱۱
لَیْسَ لِلّٰہِ فِیْہِمْ حَاجَۃٌ ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آخر زمانے میں کچھ لوگ ہونگے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرینگے۔ اللہ
عزوجل کو ان لوگوں سے کچھ کام نہیں ۔
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مسجد میں دنیاکی مباح باتیں کرنے کو بیٹھنا نیکیوں کو کھاتاہے جیسے آگ لکڑی کو ۔
فتح القدیر میں ہیں ۔
الکلام المباح فیہ مکروہ ، یا کل الحسنات ،
اشباہ میںہے ۔
انہ یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب ،
مدارک میں حدیث نقل کی ۔
الحدیث فی المسجد یاکل الحسنات کما تاکل البہیمۃ الحشیش ۔
مسجد میں دنیا کی بات نیکیوں کو اس طرح کھاتی ہے جیسے چوپایہ گھاس کو ۔
غمز العیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے ۔
من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اللہ تعالیٰ عنہ عمل اربعین سنۃ ۔
جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اللہ تعالیٰ اسکے چالیس برس کے عمل اکارت فرمادے ۔
حدیقہ ندیہ میں ہے ۔
کلام الدنیا اذاا کان مباحا صدقا فی المساجد بلاضرورۃ داعیۃ الیٰ ذٰلک کا لمعتکف یتکلم فی حاجتہااللا زمۃ مکروہ کراہۃ تحریمۃ ، ثم ذکر الحدیث وقال فی شرحہ لیس للہ تعالیٰ فیہم حاجۃ ای لا یر ید بہم خیرا وإنما ہم أہل
الخیبۃ والحرمان والاہانۃ والخسران ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع