30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کعبہ معظمہ میں تشریف فرماہوئے تو آپکو بلایا اور ارشاد فرمایا : ہم نے کعبہ میں دنبہ کے سینگ ملاحظہ فرمائے تھے (دنبہ کہ سیدنا حضرت ا سمعیل علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم کا فدیہ ہواا سکے سینگ کعبہ معظمہ کی دیوار غربی میں لگے ہوئے تھے ) ہمیں تم سے یہ فرمانا یاد نہ رہا کہ اسکو
ڈھانک دو ۔ اب ڈھانک دو کہ نماز ی کے سامنے کوئی چیز ایسی نہ چاہئیے جس سے دل بٹے ۔
فتاوی رضویہ ۳/۶۰۷
(۵) مسجدوں کی زینت میں حد سے تجاوز ممنوع
۷۴۶۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : مَا اُمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسَاجِدِ ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے مسجدوں کے گچ کر نے کا حکم نہیں دیا گیا ۔
]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مساجد میں زینت ظاہری زمانہ سلف صالحین میںفضول ونا پسند تھی ۔ کہ انکے
قلوب تعظیم شعائر اللہ سے مملو تھے ۔ ولہذا حدیث میں مباہاۃ فی المساجد کو اشراط ساعت سے شمار فرمایا ۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا ۔ لتزخرفنہا کما زخرفت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۷۴۴ الصحیح لمسلم ، ٭ فضل بناء المسجد و الحث علیہا ، ۱/۱۰۲
۷۴۵۔ المسند لاحمد بن حنبل ، ۴/۶۸
۷۴۶۔ السنن لابی داؤد ، باب فی بناء المسجد ، ۱/۶۵
الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۴۷۹ ٭ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ، ۷/۳۱۳
الدر المنثور للسیوطی ، ۳/۲۱۷ ٭ شرح السنۃ للبغوی، ۲/۳۴۸
کنز العمال للمتقی، ۲۰۸۲۷، ۷/۶۶۸ ٭ المصنف لعبد الرزاق ، ۵۱۲۷، ۳/۱۵۲
الیہود والنصاری ، مگر تبد ل زمانہ سے علماء نے تزئیین مساجد کی اجازت فرمائی ۔ کہ اب تعظیم ظاہر مورث عظمت فی العیون ووقعت فی القلوب ہوتی ہے ۔ فکان کتحلیۃ المصحف فیہ من تعظیمہ ، یہ ایسے ہی ہے جیسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع