30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا ، حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا : وائل بن حجر نے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا تو عبد اﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے
حضور کو پچاس بار دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہ کیا ۔
۷۱۰۔ عن جابربن سمرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال :قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : مَالِی أرَاکُمْ رَافِعِی أیْدِیْکُمْ کَأنَّہَا أذْنَابُ خَیْلِ شَمْسٍ ‘ اُسْکُنُوْا
فِی الصَّلٰوۃِ ۔
حضرت جابربن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا ہوا تمہیں کہ میں تمہیں رفع یدین کر تے دیکھ رہا ہوں ۔ گویا تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں
کی دمیں ہیں ،قرارسے رہو نماز میں ۔
]۴[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اصول کا قاعدہ متفق علیہا ہے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا ۔ اور حاظر مبسیح پر مقدم ۔ ہمارے ائمہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین نے احادیث ترک پر عمل فرمایا ، حنفیہ کو انکی تقلید چاہئے۔ شافعیہ وغیرہم اپنے ائمہ رحمہم اﷲ تعالیٰ کی پیروی کریں کوئی محل نزاع نہیں ۔
ہاں وہ حضرات جو تقلید ائمہ دین کوشرک و حرام جانتے ہیں اور بآنکہ علمائے مقلدین کا کلام سمجھنے کی لیاقت نصیب اعدائ، اپنے لئے منصب اجتہاد مانتے اور خواہی نخواہی تفریق کلمہ مسلمین واثارت فتنہ بین المومنین کرنا چاہتے بلکہ اسی کواپنا ذریعۂ شہرت وناموری سمجھتے ہیں
انکے راستہ سے مسلمانوں کو بہت دور رہنا چاہیئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۷۱۰۔ الصحیح لمسلم الصلوۃ، ۱/۱۸۱ ٭ السنن لابی داؤد ، الصلوۃ، ۱/۱۴۳
المسند لاحمد بن حنبل، ۵/۱۰۱ ٭ السنن الکبری للبیہقی، ۲/۲۸۰
المعجم الکبیر للطبرانی ، ۲/۲۲۳ ٭ کنز العمال للمتقی، ۱۹۸۸۳ ، ۷/۴۸۲
مانا کہ احادیث رفع ہی مرجح ہوں تاہم آخر رفع یدین کسی کے نزدیک واجب نہیں ۔ غایت درجہ اگر ٹھرے گا تو ایک امر مستحب ٹھرے گا کہ کیا تو اچھا ،نہ کیا تو کچھ برائی نہیں ، مگر مسلمانوں میں فتنہ اٹھا نا ، دو گروہ کردینا ، نماز کے مقدمے انگریزی گورنمنٹ تک پہونچانا ،شاید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع