30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اس باب میں احادیث و آثار بکثرت وارد، ہمارے محققین کا بھی یہ ہی مذہب صحیح و معتمد علیہ ہے ۔ صغیری میں ملتفظ و شرح ہدایہ سے اسکی تصحیح نقل کی ۔ اور اسی پر علامہ فہامہ محقق علی الاطلاق مولانا کمال الدین محمدبن الہمام، علامہ ابن امیرا لحاج حلبی، فاضل بہنسی ، با قانی، ملا خسرو، علامہ شرنبلالی، اور فاضل ابراہیم طرابلسی وغیرہم اکابر نے اعتماد فرمایا ۔ اور انہیں کا صاحب در مختارفاضل مدقق علاء الدین حصکفی، فاضل اجل سید احمد طحطاوی اور فاضل ابن عابدبن شامی وغیرہم اجلہ نے اتباع کیا ۔ علامہ بدرالدین عینی نے تحفہ سے اس کا استحباب نقل
فرمایا ۔ صاحب محیط اور ملا قہسقانی نے سنت کہا ۔
اس مسئلہ میں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے روایتیں وارد ‘ جس نے امام اعظم
ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس میں عدم روایت یا روایت عدم کا زعم کیا محض نا واقفی یا خطائے بشری پر مبنی ۔
امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب المشیخہ میں دربارئہ اشارہ ایک حدیث رسول اﷲ
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کر کے فرماتے ہیں ۔
فنفعل ما فعل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و نصنع ما صنعہ وھو قول
ابی حنیفۃ و قولنا، رضی اﷲ تعالی عنہم ۔
پس ہم کرتے ہیں جو رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے کیا اور عمل کرتے ہیںاس پرجو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۷۰۶۔ السنن الکبری للبیہقی، ۲/۱۳۱
حضور کا فعل تھا،اور یہ مذہب ہے ہمارا اور امام اعظم ابو حنیفہ کا ۔رضی اللہ تعالی عنہم ۔
فتاوی رضویہ جدید ۶/۱۵۱
فتاوی رضویہ قدیم ۳/۴۹
(۱۴) مسئلہ رفع یدین
۷۰۷ ۔ عن عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال : الا اخبر کم بصلاۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال: فقال : فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع