30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبح لی۔
حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں صبح کے وقت ایک معین ساعت میںحاضری دیتا ۔ اگر حضور
اس وقت نماز میں مشغول ہوتے تو مجھے آگاہ کرنے کیلئے تسبیح پڑھتے ۔
فتاوی رضویہ ۳/۴۰۳
]۱۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اگر کوئی مکان میں آنے کا اذن چاہے اور اس غرض سے کہ اسے نماز میں ہونا معلوم ہوجائے ‘ تسبیح یا تکبیر یا تہلیل کہے نماز فاسد نہ ہوگی کہ اس بارے میں حدیث گزر چکی۔ پس جو بتانا حاجت ونص کے موا ضع سے جدا ہووہ بیشک اصل قیا س پر جا رہیگا جبکہ وہاں اس حکم کا کوئی معارض نہیں ۔ اس لئے اگر غیر نمازی یا دوسرے نمازی کو جو اسکی نماز میں شریک نہیں یا ایک مقتدی دوسرے مقتدی کو ، یا امام کسی مقتدی کو بتائے قطعا نماز قطع ہو جائے گی کہ اسکی غلطی سے اسکی نماز میں کچھ خلل نہیں آتاتھا جو اسے حاجت اصلاح ہوئی ۔ تو بے ضروت واقع ہوا اور نماز گئی
بخلاف امام کہ اسکی نماز کا خلل بعینہ مقتدی کی نماز کا خلل ہے ، تو اسکا بتانا اپنی نماز کا بچانا ہے ۔
فتاوی رضویہ ۳/۴۰۳
۲۹۱۔ عن علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الاسنی قال: من السنۃ ان تفتح علی الامام اذا استطعمک قیل لابی عبد الرحمن : ما استطعام الامام ، قال : اذا
سکت۔
حضرت علی مرتضی کرم للہ تعالیٰ وجہہ الاسنی سے روایت ہے کہ سنت یہ ہے کہ جب امام تم سے لقمہ مانگے تو اسے لقمہ دو ۔ ابو عبد الرحمن سے کہا گیا : امام کا لقمہ مانگنا کیا ہے ۔ فرمایا ؛ جب امام پڑھتے پڑھتے چپ ہو جائے ۔
۶۹۲۔ عن علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اذا استطعمکم الامام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع