30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پس خلاف ارشاد حضور والا تم نے کہا ں سے نکال لیا کہ جب تک مقتدی خود نہ پڑھیگا
نماز اسکی بے فاتحہ رہیگی اور فاسد ہو جائیگی ۔
د وسری دلیل :حدیث مسلم من صلی صلوۃ لم یقرأ فیہا بام القرآن فھی خداج فھی خداج فھی خداج ۔ حاصل یہ کہ جس نے کوئی نماز بے فاتحہ پڑھی وہ ناقص ہے ۔ ناقص ہے
ناقص ہے ۔
اس کا جواب بھی بعینہ مثل اول کے ہے ۔ نماز بے فاتحہ کا نقصان مسلم اور قرأت امام قرأت مقتدی سے مغنی ۔
خلاصہ یہ کہ اس قسم کی احادیث اگر چہ لاکھوں ہوں تمہیں اس وقت بکار آمد ہونگی جب ہمارے طور پر نماز مقتدی بے ام الکتاب رہیتی ہو ۔ وہو ممنوع۔ اور آخر حدیث میں قول حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’اقرا بہا فی نفسک یا فارسی ‘‘ کہ شافعیہ اس سے بھی استناد کرتے ہیں ۔ فقیر بتوفیق الہی اس سے ایک جواب حسن طویل الذیل رکھتا ہے جسکے ذکر
کی یہاں گنجائش نہیں ۔
تیسری دلیل۔ حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’ لا تفعلوا الابام
القرآن ‘‘ امام کے پیچھے اور کچھ نہ پڑھو سوائے فاتحہ کے ۔
اولا۔ یہ حدیث ضعیف ہے ۔ ان صحیح حدیثوں کی جو ہم نے مسلم ، ترمذی ،نسائی ، مؤطائے امام مالک موطائے امام محمد وغیرہاصحاح معتبرات سے نقل کیں کب مقاو مت کرسکتی ہے ۔ امام احمد بن حنبل وغیرہ حفاظ نے اسکی تضعیف فرمائی ۔ یحیی بن معین جیسے ناقد جنکی نسبت امام ممدوح نے فرمایا : جس حدیث کو یحیی نہ پہچانے وہ حدیث ہی نہیں ۔ فرماتے ہیں
استثنائے فاتحہ غیر محفوظ ہے ۔
ثانیا۔ خود شافعیہ اس حدیث پر دو وجہ سے عمل نہیں کرتے ۔
ایک یہ کہ اس میں ورائے فاتحہ سے نہی ہے اور انکے نزدیک مقتدی کو ضم سورۃ بھی جائز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع