30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈھال ابن مسعود کی ملتی جلتی دیکھی اور
پا ئی کسی کی نہ پائی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۶۶۸۔ مسند لامام الاعظم ، ۶۱
۶۶۹۔ المؤطا لمالک، الصلوۃ ۱۰۰
حدیث میں ہے ۔ خود حضور اکرم الاولین والآ خرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد
فرماتے ہیں ۔
میں نے اپنی امت کے لئے وہ پسند کیا جو عبد اللہ بن مسعود اسکے لئے پسند کرے ۔ اور اپنی امت کے لئے ناپسند کیا جو اسکے لئے عبد اللہ بن مسعود نا پسند کرے ۔گویا انکی رائے خود حضور والا کی رائے اقدس ہے ۔ اور معلوم ہوا کہ جناب ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب
مقتدی ہوتے تو فاتحہ وغیرہ کچھ نہیں پڑھتے اور انکے سب شاگرد وں کا یہ ہی وتیرہ تھا ۔
فتاوی رضویہ جدید ۶/ ۲۴۳
۶۷۰۔ عن أبی وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : سئل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن القرأ ۃ خلف الامام قال : انصت فان فی الصلوۃ لشغلا
سیکفیک ذلک الامام۔
حضرت ابو وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دربارۂ قرأت مقتدی سوال ہوا۔ فرمایا : خاموش رہ کہ نماز میں مشغول
ہے ۔’’ یعنی بیکار باتوں سے خاموش رہنا‘‘ عنقریب تجھے امام اس کام کی کفایت کر دے گا ۔
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یعنی نما زمیں تجھے لا طائل باتیں روا نہیں ۔ اور جب امام کی قرأت بعینہ مقتدی کی
قرات ٹھہرتی ہے تو پھر مقتدی کا خود قرأت کرنا محض لغونا شائستہ ہے ۔
فقیر کہتا ہے ۔یہ حدیث اعلی درجہ صحاح میں ہے ۔ اسکے سب رواۃ ائمہ کبار و رجال
صحاح ستہ ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع