30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احادیث اس باب میں بکثرت ہیں اور انکی جمع و تلفیق کی حاجت نہیں ۔ بلکہ نماز شروع روز شریعت سے مقرر ومشروع ہے ۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر اول بار جس وقت وحی نازل ہوئی اور نبوت کریمہ ظاہر ہوئی اسی وقت حضور نے بہ تعلیم جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نماز پڑھی ۔ اور اسی دن بہ تعلیم اقدس حضرت ام المؤمنین خدیجۃالکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پڑھی۔ دوسرے دن امیر المؤمنین علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الا سنی نے
حضور کے ساتھ پڑھی کہ ابھی سورۂ مزمل نازل بھی نہ ہوئی تھی ۔ تو ایمان کے بعد پہلی شریعت
نماز ہے ۔
بالجملہ یہ سوال ضرور متوجہ ہوتا ہے کہ معراج سے پہلے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم نما زکس طرح پڑھتے تھے ۔
اقول : ملاحظہ آیات و احادیث سے ظاہر کہ وہ نما زاسی انداز کی تھی اس میں طہارت ثوب بھی تھی ۔ تکبیر تحریمہ بھی تھی ۔ قرآت بھی تھی ۔رکوع بھی تھا اور سجود بھی۔ جماعت بھی تھی اور
جہر بھی ۔ فتاوی رضویہ ، ۵/ ۸۲، ۹۰
(۱۷) اتفاقیہ نیند عذر شرعی ہے
۶۶۱۔ عن أبی قتادۃ الأنصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : أمَا اِنَّہٗ لَیْسَ فِی النَّوْمِ تَفْرِیْطٌ ، اِنَّمَا التَّفْرِیْطُ فِی الْیَقْظَۃِ
أنْ تُؤَخِّرَ صَلٰوۃً حَتّی یَدْ خُلَ وَقْتُ صَلٰوۃٍ اُخْرٰی ۔
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سونے میں کچھ تقصیر نہیں ۔ تقصیر تو جاگتے میں ہے کہ تو ایک نماز کو اتنا
پیچھے ہٹائے کہ دوسری کا وقت آجائے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع