30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان حدیثوں کے بارے میں ان محدثین کرام و محققین اعلام نے جو تصحیح و تضعیف، تجریح و توثیق میں دائرہ اعتدال سے نہیں نکلتے اور راہ تساہل وتشدد نہیں چلتے حکم اخیر و خلاصہ بحث و تنقیر یہ قرار دیا کہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جو حدیثیں یہاں روایت کی گئیں
باصطلاح محدثین درجہ ٔ صحت کو فائز نہ ہوئیں ۔
٭ مقاصد میں فرمایا ۔
لا یصح فی المرفوع من کل ہذا شئی،
بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ۔
٭ ملا علی قاری موضوعات کبیر میں فرماتے ہیں ،
کل ما یروی فی ہذا فلا یصح رفعہ البتۃ ۔
اس بارے میں جو روایات ہیں انکا مرفوع ہونا حتمی طور پر صحیح نہیں ۔
٭ رد المحتار میں ہے ۔
لم یصح فی المر فوع من کل ہذا شی۔
بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ۔
پھر خادم حدیث پر روشن کہ اصلاح محدثین میں نفی صحت نفی حسن کو بھی مستلزم نہیں ، نہ کہ نفی صلاح تماسک و صلوح تمسک ، نہ کہ دعوی وضع وکذب ،تو عند التحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاح محدثین حکم صحت صحیح نہیں ، یونہی حکم وضع و کذب بھی ہر گز مقبول نہیں ۔ بلکہ تبصریح
ائمہ فن کثرت طرق سے جبر نقصان متصور، اور عمل علماء و قبول قدما ء حدیث کے لئے قوی
دیگر۔
اور نہ سہی تو فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول ۔ اور اس سے بھی گزر یئے تو بلا شبہ یہ فعل اکابر دین سے مروی و منقول ۔ اور سلف صالح میں حفظ صحت بصر و روشنائی چشم کے لئے مجرب اورمعمول ۔ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہو تو اسی قدر سند کافی ، بلکہ اصلا نقل بھی نہ ہو صرف تجربہ وافی ، کہ آخر اس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں ،نہ کسی سنت ثابتہ کا خلاف ، اور نفع حاصل تو منع باطل ، بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع