30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آگے امام کے مواجہہ میں ہو ۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ امام کی گود
میں منبر کی گگر پر ہو جس سے داخل مسجد ہونا استنباط کیا جائے ۔
بین یدیہ ، سمت مقا بل میں منتہائے جہت تک صادق ہے ۔ جو وقت طلوع مواجہہ
مشرق یا ہنگام غروب مستقبل مغرب کھڑا ہو وہ ضرور کہے گا کہ آفتاب میرے سامنے ہے ۔
حالانکہ آفتاب اس سے تین ہزار برس کی راہ سے زیادہ دور ہے ۔
پس جو اذان مسجد یا فنائے مسجد کی کسی زمین میںجہاں تک حائل نہ ہو محاذات امام میں دی جائے ۔ اس پر ضرور ’بین یدیہ ‘ صادق ہے ۔ بلا شبہ کہا جائیگا کہ امام کے سامنے خطیب کے
روبرو منبر کے آگے اذان ہوئی اور اسی قدر درکار ہے ۔
غالبا خود مستدلین کو معلوم تھا کہ قریب مسجد بیرون مسجد مواجہہ امام کو بھی بین یدیہ ، شامل ہے ۔ لہذا روبرو ئے خطیب کہنے کے بعد ان لفظوں کی حاجت ہوئی کہ مسجد کے اندر ، مگر
خاص یہی لفظ کہ اصل مدعا تھے صرف اپنی طرف سے ا ضافہ ہوئے ۔
چنانچہ حدیث جلیل مذکور نے واضح کر دیا کہ اس روبروئے امام پیش منبر کے کیا معنی
ہیں ۔ اور یہ کہ زمانہ رسالت و خلفائے راشد ین سے کیا متوارث ہے ۔
ہاں یہ کہیئے کہ اب ہندوستان میں یہ اذان متصل منبر کہنی شروع ہو رہی ہے ۔ مگر نص حدیث سے جدا ۔ تصریحات فقہ کے خلاف کسی بات کا ہندیوں میں رواج ہو جانا کوئی حجت نہیں ، ہندیوں میں ایک یہ ہی کیا اور وقت کی اذانیں بھی بہت لوگ مسجد میں دے لیتے ہیں حالانکہ وہاں تو ان تصریحات ائمہ کے مقابل ’بین یدیہ ‘ وغیرہ کا بھی دھوکہ نہیں ۔ پھر ایسوں کا فعل کیا
حجت ہو سکتا ہے۔
الحمد للہ ، یہاں اس سنت کریمہ کا احیاء رب عزوجل نے اس فقیر کے ہاتھ کیا ، میرے یہاں موذنوں کو مسجد میں اذان دینے سے ممانعت ہے ،۔ جمعہ کی اذان ثانی بحمد اللہ تعالیٰ منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی ہے ۔ جس طرح زمانہ اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ہوا کرتی تھی ۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ
من یشاء واللہ ذو الفضل العظیم والحمد للہ رب العا لمین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع