30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیر المؤمنین نے ایک دروازہ کا اور اضافہ فرمایا ۔ خلاصۃ الوفا
میں مکمل تفصیل ہے۔
نیز بخاری شریف میں بھی شمالی دروازہ کی یوں صراحت ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد نبوی میں اس طرح دروازہ سے آیا کہ ممبر کے سامنے تھا اور حضور خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔
یہ شخص دعائے استسقاء کے لئے آیا تھا ۔
نفحہ ۱۱۔ یہ امر قابل لحاظ ہے یہاں دو سنتیں ہیں ۔ جس میں ایک کا تعلق خاص اذان خطبہ
سے ہے یعنی خطیب کے ممبر پربیٹھنے کے وقت اذان کا اس کے سامنے ہونا ۔
دوسری سنت عام ہے جو ہر اذان کو شامل ہے وہ اذان کا حدود مسجد کے اندر اسکے صحن
کے کنارہ پر ہونہ کہ خاص مسجد کے اندر ۔
لیکن اذان کی سنیت میں دروازہ کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ اہمیت صرف ممبر کے سامنے ہونے کی ہے ۔ اگر کسی مسجد میں ممبر کے سامنے دروازہ نہ ہوتو ایسا نہیں کہ دروازہ ڈھونڈ کر
وہیں اذان دی جائے ۔
نفحہ ۱۲۔ مخالفین جب ہر طرف سے عاجز ہو گئے تو کہا کہ لوگوں نے اس حدیث کو ذکر ہی
نہیں کیا تو یہ متروک العمل ہے ۔
یہ بات اس قبیل سے ہے کہ کسی چیز کے نہ ہونے پر اندھوں کی گواہی پیش کی جائے ۔ ورنہ علماء تو مسلسل اس حدیث کا ذکر کرتے آئے اور اس پر اعتماد بھی کیا ۔
تفسیر خازن ، تفسیر کبیر ، تفسیر کشاف، تقریب کشاف ، تجرید کشاف ، تفسیر نیشاپوری ، تفسیر خطیب ، درشفاف لعمر ابن الھادی ، نہر الماء من بحر المحیط لا بی حیان ، اور فتوحات الہیہ
میں یہ حدیث منقول اور اس پر اعتماد مذکور۔
شمائم العنبر قلمی شما مۂ اولی ملخصاً/ مترجماً ،۳ تا ۱۱۔
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
’بین یدیہ‘ نیز اسکے مثل دیگر عبارات کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ اذان ثانی خطیب کے سامنے منبر کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع