30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ألہاد الکاف فی حکم الضعاف ‘‘ بلکہ امام ابن حجر مکی نے فرمایا ۔ متعدد حفاظ نے اسکی تصحیح
کی ۔ أ فضل القری لقراء ام القرئ میں فرماتے ہیں ۔
إن آباء النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غیر الأنبیاء و أمہاتہ إلی آدم و حواء لیس فیہم کافر ۔لأن الکافر لا یقال فی حقہ أنہ مختار ولا کریم و لا طاہر بل نجس۔ و قد صرحت الأحادیث بأنہم مختارون و أن الآباء کرام و الأمہات طاہرات و أیضا قال تعالیٰ و تقلبک فی الساجدین ۔ علی أحد التفاسیر فیہ أن المراد تنقل نورہ من ساجد إلی ساجد و حینئذ فہذا صریح فی أن أبوی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أہل الجنّۃ و ہذا ہو الحق بل فی حدیث صححہ غیر واحد من الحفاظ و لم یلتفتوا لمن طعن فیہ أن اللہ تعالٰی أحیاہما فاٰمنا بہ ألخ ۔ مختصرا و
فیہ طول ۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سلسلئہ نسب کریم میں جتنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام ہیں وہ تو انبیا ء ہی ہیں ۔ انکے سوا حضور کے جس قدر آباء کرام و امہات طاہرات آدم وحوا علیہما الصلوۃ و السلام تک بھی ان میں کوئی کافر نہ تھا کہ کافر کو پسندیدہ یا کریم یا پاک نہیں کہا جاتا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آباء وامہات کی نسبت حدیثوں میں تصریح فرمائی ۔ کہ وہ سب پسندیدئہ الہٰی ہیں ۔ آباء سب کرام ہیں ۔ مائیں سب پاکیزہ ہیں ۔ اور آیت کریمہ ’’و تقلبک فی الساجدین‘‘ کی بھی ایک تفسیر یہ ہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور ایک ساجد سے دوسرے ساجد کی طرف منتقل ہوتا آیا ۔ تو اب اس سے صاف ثابت ہے کہ حضور کے والدین حضرت آمنہ و حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اہل جنت ہیں کہ وہ تو ان بندوں میں جنہیں اللہ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے چنا تھا سب سے قریب تر ہیں ۔ یہ ہی قول حق ہے بلکہ ایک حدیث میں جسے متعدد حافظان حدیث نے صحیح کہا ہے اور اس مین طعن کرنیوالے کی بات کو قابل التفات نہ جانا تصریح ہے کہ اللہ عزوجل
نے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے زندہ فرمایا
یہاں تک وہ ایمان لائے ۔
اپنا مسلک اس باب میں یہ ہے
و من مذہبی حب الدیار لأہلہا ÷ و للناس فیما یعشقون مذاہب
جسے یہ پسند ہو ’’ فبہا و نعمت ‘‘ ورنہ آخر اس سے تو کم نہ ہو کہ زبان روکے دل صاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع