30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ابن اسحاق کے اس اضافہ کو اس وجہ سے ترک کیا جائے کہ صرف ابن اسحاق اسکے راوی ہیں ۔ دیگر راویان حدیث نے انکا ذکر نہیں کیا ۔ لہذا
ثقہ راویوں کی مخالفت قرار دیکر حدیث کو مضطر ب قرار دے دیا جائے ۔
اگر یہ ظلم روا رکھا جائے تو معدودے چند روایتیں ہی اضطراب سے محفوظ رہیں گی ۔ کیونکہ کون سی حدیث ہے جو دو یا دو سے زائد طریقو ں سے مروی نہیں ۔ اور ہر طریقہ ٔ روایت کے متن میں کچھ ایسا حصہ ضرور ہے جو دوسرے میں نہیں ۔ شاید ہی ایسا ہوگا کہ دونوں روایتوں
کے الفاظ بالکلیہ یکساں اور برابر ہوں ۔ اور نادر کا کیا اعتبار۔
نفحہ ۶۔ وہ شخص کتنا بڑا جاہل ہے جو یہ کہتا ہے کہ سائب بن یزید کی حدیث خود ہی متناقض ہے ۔ اس لئے کہ حدیث کے الفاظ خطیب کے سامنے ، اور مسجد کے دروازہ پر میں تناقض ہے، کہ باب مسجد پر ہوگی تو خطیب کے سامنے کیسے ہوگی ۔ یہ شبہ سراسر وہم کی پیدا وار ہے۔ کیونکہ جب تم منبرپر بیٹھو اور تمہارے منہ کے سامنے مسجد کا دروازہ ہو تو دروزہ پر کھڑا ہونے
والا کیوں تمہارے سامنے نہ ہوگا ۔ کیا اس کو تمہارے پیچھے کھڑا ہونے والا کہا جائیگا۔
نفحہ ۷۔ جب ’’ بین یدیہ ‘‘ اور علی الباب ‘‘ کا تناقض ختم ہو گیا تو اس پر حدیث کی جو
تاویل مبنی تھی وہ ختم ہوگئی ۔ کہ درخت بیج کے بغیر اگ نہیں سکتا ۔
لیکن اس تاویل میں جراتناک بات یہ ہے کہ مؤول کے نزدیک سائب بن یزید کی حدیث میں سے مراد وہ دروازہ ہے جو دیوار قبلہ میں ممبر کی پشت پر تھا ( یعنی تحویل قبلہ سے پہلے) تو خطیب کے سامنے ممبر کے بالکل متصل کھڑے ہونے والے مؤذن کو مسجد کے دروازہ پر کہہ
دیا ۔
یاللعجب ، مؤول جس دروازہ کی بات کر رہا ہے وہ اب نہیں ہے ، اسے بند کرکے دیوار کر دیا گیا ہے ۔ وہ تو مراد ہو سکتا ہے اور حقیقی دروازہ جو فی الوقت موجود ہے اور خطیب کے
سامنے ہے مراد نہیں ہو سکتا ۔
نفحہ ۔۸۔دروازہ سے باب شمالی مراد لینا جو منبر کے سامنے واقع تھا اور ’ علی باب المسجد‘ کے علی، کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع