30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حنیفہ ، امام مالک ، اور امام احمد بن حنبل شامل ہیں یہ سب لوگ اسے مطلقا
مقبول رکھتے ہیں ۔ ہاں ظاہر یہ اور جمہور محدثین جو ۲۰۰ھ کے بعد ہوئے قبول نہیں کرتے ۔
فصول البدائع مولا خسرو میں ہے۔
اور محدثین کا ایسا طعن جو جرح بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ جیسے عنعنہ میں تدلیس کا طعن کہ اس میں شبہ ارسال ہے حالانکہ خود ارسال اسباب طعن میں سے نہیں ہے۔
نفحہ ۴۔ روایت ابن اسحاق کی تائید و توثیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ انکی محولہ بالا حدیث کو اس امام ( ابو داؤد ) نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، جنکے ہاتھ میں علم حدیث اس طرح نرم و ملائم ہو گیا تھا جیسے حضرت داؤد علیہ السلام، کے دست کریم میں لوہا نرم کردیا گیا تھا ۔ جنکے مجموعۂ احادیث کے بارے میں علمائے حدیث کی شہادت ہے کہ جس گھر میں یہ کتاب ہو اس گھر میں گویا نبی ہے جو کلام کر رہا ہے ۔ ایسے امام نے یہ حدیث اپنی کتاب میں درج فرما کر
سکوت کیا ۔ اس پر کوئی جرح نہیں کی ۔
مقدمہ ابن صلاح میں خود امام ابو داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ قول اس کتاب کے
بارے میں منقول ہوا۔
میں نے اپنی کتاب میں صرف صحاح کو جمع کیا ہے یا جو اسکے مشابہ اور قریب ہو۔
فتح المغیث میں امام ابن کثیر سے انہیں کا یہ قول منقول ہوا۔
اس کتاب میں جس حدیث پر سکوت کروں تو وہ حسن ہے۔
ابو عمر و بن عبدالبر نے کہا ۔
جس حدیث کو ذکر کرکے ابو داؤد نے سکوت کیا تو وہ انکے نزدیک صحیح ہے ۔
نفحہ۵۔ امام زہری کے اکثر شاگردوں نے حدیث میں ’’علی باب المسجد ‘‘ اور ’’بین یدیہ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ان دونوں ٹکڑوں کا ذکر صرف ابن اسحاق نے کیا ہے جو ایک
ثقہ راوی کا اضافہ ہے اور اسکا قبول کرنا واجب ہے ۔
تو یہ کتنابڑا ظلم ہے کہ ’’بین یدیہ ‘‘ کو تو تسلیم کیا جائے ۔ اور ’’علی باب المسجد ‘‘ کو ترک کر دیا جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع