30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عن ایوب عن عمر و بن شعیب ، بھی ہے ۔
میں کہتا ہوں : ابن اسحاق امام زہری کے بھی اروی الناس شاگرد ہیں ، مگر قاضی
ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کتا ب الخراج میں فرماتے ہیں مجھ سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ ان
سے عبد السلام نے اور ان سے امام زہری نے ۔
تو ابن اسحاق کی یہ روایتیں لفظ ’عن ‘ سے ہونے کے باوجود تدلیس نہیں بلکہ روایت
متصل ہے ۔
تیسرا جواب ۔ محمد بن اسحاق کی تدلیس اور عنعنہ کے بارے میں اب تک جو بحث تھی وہ ان محدثین کے مسلک کی بنیاد پر تھی جو حدیث کی جرح میںعنعنہ اور تدلیس کا لحاظ کرتے ہیں ۔ لیکن ہم حنفیوں مالکیوں اور حنبلیوں اور جمہور علماء کے اصول پر عنعنہ کا لحاظ اصلا ساقط ہے ۔ کیونکہ عنعنہ کے لحاظ کی وجہ تو یہ شبہ ہے کہ تدلیس سے حدیث کے مرسل ہونے کا ڈر ہے ۔ اور ہمارے اور خود جمہور کے نزدیک تو خود ارسال بھی سند کا عیب نہیں ۔ اور حدیث مرسل مقبول
ہے۔ تو صرف شبہ ارسال سے حدیث پر کیا اثر پڑیگا
امام جلال الدین سیوطی نے تدریب میں فرمایا۔
جمہور علماء کرام جو مراسیل قبول کرتے ہیں وہ عنعنہ کو بھی قبول کرتے ہیں ۔
اسی میں امام جریر طبری سے منقول ۔
جملہ تابعین نے بالکلیہ مراسیل قبول کرنے پر اجماع کیا ہے ۔ نہ تو تابعین نے مراسیل
کا انکار کیا ہے اور نہ انکے بعد ۲۰۰ ھ تک کسی اور نے ۔
صحیح مسلم اور جامع ترمذی میں محمد بن سیر ین تابعی سے ہے۔
لوگ احادیث کی سند کے بارے میں کسی سے سوال ہی نہیں کرتے تھے ،
جب فتنہ واقع ہوا تو سوال کیا جانے لگا ۔ کہ اپنے راویوں کو ہم سے بیان کرو ۔
مسلم الثبوت اور اسکی شرح فواتح الرحموت میں ہے۔
صحابہ کرام کی مراسیل باتفاق ائمہ مطلقا مقبول ہیں ۔ اور دوسروں کی مراسیل باتفاق ایمہ جن میں امام ابو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع