30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی نہیں کیا ۔ اور انکی جرح میں امام مالک کا جو قول نقل کیا گیا ہے ۔ اسکی صحت سے انکار کیا ہے ۔ اور حضرت علی سے انکے بارے میں ھشام سے جو مروی ہے اسکا بھی
انکار کیا ہے ۔
٭ ا مام بخاری نے بے سند تنقیدوں کا کیا خوب رد فرمایا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں ۔
ایسی تنقیدوں سے کم لوگ ہی کامیاب ہوئے ۔ جیسے امام شعبی کے بارے میں امام ابراہیم کا کلام ، عکرمہ کے بارے میں امام شعبی کا کلام، اہل علم میں سے کسی نے اس قسم کی تنقیدوں کی طرف کوئی توجہ نہ کی ۔ جب تک جرح صریح اورمدلل نہ ہو۔ ایسی تنقیدوں سے
کسی کی عدالت پر اثر نہیں پڑتا ۔
٭ یعقوب بن شیبہ فرماتے ہیں :۔
میں نے انکے بارے میں علی بن المدینی سے سوال کیا ۔ تو فرمایا : میرے نزدیک انکی حدیثیں صحیح ہیں ۔ میں نے امام مالک کی تنقیدوں کی کا ذکر کیا ، تو فرمایا : وہ نہ انکے ساتھ رہے ،نہ
انہیں پہچانا ۔
٭ ابن حبان نے انہیں ثقات مین شمار کیا اور فرمایا ۔
امام مالک نے ابن اسحاق کی جرح سے رجوع فرمایا اور ان سے صلح کرلی اور انہیں تحفہ
بھیجا ۔
نفحہ۱۔تقریب کے قول ’’ ان پر تشیع کی تہمت لگائی گئی ‘‘ سے دھوکہ کھا کر ان پر رفض کا عیب لگانا بدبو دار جہالت ہے ۔ رفض و تشیع میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔بسا اوقات لفظ تشیع کا اطلاق حضرت مولی علی کو عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر فضیلت دینے پر ہو تا ہے ۔ جبکہ یہ ائمہ
کرام بالخصوص اعلام کوفہ کا مذہب ہے ۔
پھر لفظ شیعی اوررمی بالتشیع کا فرق بھی ملحوظ خاطر رہنا چا ہئیے۔بخاری کے کتنے ہی
ایسے راوی ہیں جن پر تشیع کا الزام ہے ۔
ہدی الساری میں ایسی بیس سندوں کی تفصیل ہے جو خاص مسانید بخاری میں ہیں۔ تعلیقات کا تو ذکر ہی الگ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع