30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ حدیث حسن و صحیح ہے ۔ اسکے راوی محمد بن اسحاق قابل بھروسہ نہایت سچے اور امام ہیں
٭ انکے بارے میں امام شعبی ،محدث ابو زرعہ ، اور ابن حجر نے فرمایا ۔
’’صدوق‘‘ یہ بہت سچے ہیں۔
٭ امام عبدا للہ بن مبارک فرماتے ہیں ۔
ہم نے انہیں صدوق پایا ، ہم نے انہیں صدوق پایا ،ہم نے انہیں صدوق پایا ۔
٭ امام عبداللہ بن مبارک ،امام شعبہ ، سفیانین ثوری و ابن عینیہ اور امام ابو یوسف
نے ان سے کتاب الخراج میں بہت زیادہ روایتیں کیں اور انکی شاگردی اختیار کی ۔
٭ امام ابو زرعہ دمشقی نے فرمایا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۶۱۱۔ السنن لابی داؤد ، الصلوۃ ، ۱/۱۵۵
اجلہ علماء کا اجماع ان سے روایت کرنے پر قائم ہے ،اور آپ کو اہل علم نے آزمایا ۔ تو اہل صدق و خیر پایا ۔
٭ ابن عدی نے کہا ،
آپکی روایت میں ائمہ ثقات کو کوئی اختلاف نہیں ۔اور آپ سے روایت کرنے میں
کوئی حرج نہیں ۔
٭ امام علی بن المدینی نے کہا ۔
میں نے کسی امام یا محدث کو ابن اسحاق پر جرح کرتے نہیں دیکھا ۔
٭ امام سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں ۔
میں ستر سال سے اوپر ابن اسحاق کی خدمت میں رہا اہل مدینہ میں سے کسی نے ان پر
اتہام نہیں رکھا ۔ نہ ان پر کچھ تنقید کی ۔
٭ امام ابو معاویہ نے فرمایا ،
ابن اسحاق سب لوگوں سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے۔
٭ امام ابو اللیث نے فرمایا ۔
یزید بن حبیب سے روایت کرنے والوں میں ابن اسحاق سے زائد ثبت کوئی نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع