30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
العلمامعاذ بن جبل ،سید القراء ابی بن کعب ،سید الحفاظ ابو ہریرہ، عبداللہ بن زبیر و غیرہم رضی اللہ تعالی عنہم۔ و اکابر تابعین مثل امام اجل محمد باقر ،امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز،و اجلائے تبع تابعین مثل امام الشام اوزاعی ،امام الفقہاء والمحدثین والصالحین عبداللہ بن مبارک ،زفر بن ہزیل ،و ائمہ لغت مبرد ،ثعلب ،فراء ،و بعض کبرا ئے شافعیہ،مثل ابو سلمان خطابی ،امام مزنی تلمیذ خاص امام شافعی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم سے منقول ،کما فی عمدۃ القاری و غنیۃ المستملی و غیرہما۔اب اگر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے صراحۃ ثابت بھی ہو کہ انہوں نے بعد غروب ابیض مغرب پڑھی تو صاف محتمل کہ انہوں نے کسی سفر میں سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بعد شفق احمر شفق ابیض میں مغرب اور اسکے بعد عشاء پڑھتے دیکھا اور اپنے اجتہاد کی بنا پر یہ ہی سمجھاکہ حضور والا صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ نے وقت قضا کرکے جمع فرمائی ۔ اب چاہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ثابت ہوجائے کہ انہوں نے پہر رات گئے بلکہ آدھی رات ڈھلے مغرب پڑھی ۔یہ ان کے اپنے مذہب پر مبنی ہوگا ، کہ جب وقت قضا ہو گیا تو گھڑی اور پہر سب یکساں ۔ مگر ہم پر حجت نہ ہو سکے گا کہ ہمارے مذہب پر وہ جمع صوری ہی تھی جسے جمع حقیقی سے اصلاًعلاقہ نہ تھا ۔یہ تقریر بحمد اللہ تعالیٰ و افی و کافی اور مخالف کے تمام دلائل و شبہات کی دافع و نافی ہے ۔اگر ہمت ہے تو کوئی حدیث صحیح صریح لائو جس سے صاف صاف ثابت ہو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حقیقۃ شفق
ابیض گزار کر وقت اجماعی عشاء میںمغرب پڑھی ۔یا اس طور پر پڑھنے کا حکم فرمایا ۔
مگر بحول اللہ تعالی قیامت تک کوئی حدیث نہ دکھا سکو گے ۔بلکہ احادیث صحیحہ صریحہ جن میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ؑ کا جمع فرمانا اور اسکا حکم دینا آیا وہ صراحۃً ہمارے موافق اور جمع صوری میں ناطق ہیں جن کا بیان واضح ہو چکا۔پھر ہم پر کیا جبر ہے کہ ایسی احتمالی باتوںمذبذب خیالوں پر عمل کریں اور انکے سبب نمازوںکی تعین و تخصیص اوقات کہ نصوص قاطعۂ قرآن و حدیث و اجماع امت سے ثابت ہے چھوڑدیں۔ہکذا ینبغی التحقیق واللہ
تعالیٰ ولی التوفیق۔ فتاوی رضویہ جدید ۵/۲۲۷۔۲۴۶
(۱۵) وقت نکال کر نماز پڑھنا سخت عذاب کا باعث ہے
۵۹۰۔ عن سعد بن أبی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : سألت النبی صلی اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع