30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اولاً: یہ بھی کب رہی ، اس میں بھی وہی تقریر جاری ۔ جیسے ’ غاب الشفق ‘ بمعنی
’’کادان یغیب ‘‘‘ یوں ہی’’ ذہب البیاض ‘ بمعنی کادان یذہب‘‘۔
ثانیا : حدیث میں بیاض افق ہے نہ بیاض شفق ۔ کنارۂ شرقی بھی افق ہے ۔ بعد غروب شمس مشرق سے سیاہی اٹھتی ہے اور اسکے اوپر سپیدی ہوتی ہے جس طرح طلوع فجر میں اسکا عکس جیسے قرا ٓن عظیم میں ’’ حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر ‘‘ (یہاں تک کہ فجر کے سیاہ دھاگے سے سفیددھا گا تمہارے لئے واضح ہوجائے ) فرمایا ۔ جب فجر بلند ہوتی ہے ۔ وہ خیط اسود جاتا رہتا ہے ۔ یونہی جب مشرق سے سیاہی بلند ہوتی ہے سپیدی شرقی جاتی رہتی ہے اور ہنوز وقت مغرب میں وسعت ہوتی ہے ۔ اور اس پر عمدہ قرینہ یہ ہے کہ بیاض کے بعد فحمۂ عشا سر شام کا دھندلکا ہے کہ موسم گرما میں تیزی نور شمس کے سبب بعد غروب نظر کو ظاہر ہوتا ہے ۔ جب تارے کھل کر روشنی دیتے ہیں زائل ہو جاتا ہے جیسے چراغ کے
سامنے تاریکی میں آکر کچھ دیر سخت ظلمت معلوم ہوتی ہے پھر نگاہ ٹھہر جاتی ہے ۔
زہرالربی میںہے۔
فحمۃ العشا ء ہی اقبال اللیل و اول سوا د ہ ،
فحمۂ عشارات کے آنے کو اور اسکی ابتدائی سیاہی کو کہتے ہیں۔
شرح جامع الاصول میں ہے۔
ہی شدۃسواد اللیل فی اولہ حتی اذا سکن فورہ قلت بظہور النجوم و
بسط نورہا ، و لان العین اذا نظرت الی الظلمۃ ابتداء لاتکاد تری شئیا ۔
فحمئہ عشارات کے ابتدائی حصہ کی سخت سیاہی ہے ۔ پھر جب اسکا جوش ٹھہر جاتا ہے تو تاروں کے نکلنے اور انکی روشنیاں پھیلنے سے سیاہی کم ہوتی جاتی ہے ۔ اورا س لئے بھی کہ آنکھ
جب ابتداء میں تاریکی کی طرف نظر کرتی ہے تو کچھ نہیں دیکھ پاتی ۔
ظاہر ہے کہ اسکا جانا بیاض شفق کے جانے سے بہت پہلے ہوتا ہے ۔ توبیاض شفق جانا بیان کر کے پھر اس کے ذکر کی کیا حاجت ہوتی ۔ ہاں بیاض شرقی اس سے پہلے ہو جاتی ہے تو اس
معنئی صحیح پرفحمئہ عشا کا ذکر عبث و لغو نہ ہوگا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع