30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روایت نسائی و طحاوی و حجج میں تھا ۔ ہمیں گمان ہوا کہ اس وقت انہیں نماز یاد نہ رہی ۔ یہ
سب اسی قول نافع کے مئوید ہیں ۔
معہذا شک نہیں کہ اصل عدم تعدد ہے ۔ تو جب تک صراحۃ تعدد ثابت نہ ہوتا اس ادعا کی طرف راہ نہ تھی ۔ خصوصاً مستدل کو جسے احتمال کافی نہیں ۔ دفع تعارض کیلئے اسکا اختیار اس
وقت کام دیتا کہ خود قصئہ صفیہ میں دونوں روایات صحیحہ قبل غروب و بعد غروب موجود نہ ہوتیں ۔
ناچار خود ملاجی کو بھی ماننا پڑا کہ یہ سب طرق و روایا ت ایک ہی واقعے کی حکایات ہیں۔ قصۂ صفیہ میں حدیث سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم بطریق کثیر بن قاروندا مروی سنن نسائی پر براہ عیاری بھی جب کوئی طعن نہ گڑھ سکے تو اسے مخالف حدیث شیخین ٹھہرا کر رد کردیا کہ اس میں مغرب کا بین الوقتین پڑھنا ہے او ران میں بعد غروب شفق ۔ لہذا یہ شاذو مردود ہے جسکی نقل لطیفۂ ہفتم افادئہ یکم میں گذری ۔ حالانکہ حدیث مسلم کے لفظ ابھی سن چکے ۔ اس میں قصئہ صفیہ کا ذکر نہیں ۔ تو جب تک روایت مطلقہ بھی اسی قصۂ صفیہ پر محمول نہ ہو حدیث
قصۂ صفیہ کو مخالف روایت شیخین کہنا یعنی چہ ؟
بالجملہ اس حدیث کی اتنی روایات کثیر ہ میں یہ تصریح صریح ہے کہ مغرب غروب شفق سے پہلے پڑھی ۔ اور اسی کی ان روایات میںکہ شفق ڈوبے پرپڑھی ۔ اور دونوں جانب طرق صحاح و حسان ہیں جن کے رد کی طرف کوئی سبیل نہیں ۔ تو اب یہ دیکھنا واجب ہو ا کہ ان میں کونسا نص مفسر نا قابل تاویل ہے جسے چار و نا چار معتمد رکھیں اور کونسا محتمل کہ اسے مفسر کی طرف پھیر کر رفع تعارض کریں ۔ ہر عاقل جانتا ہے کہ ہماری طرف کے نصوص اصلا احتمال معنئی خلاف نہیں رکھتے ۔ شفق ڈوبنے سے پہلے پڑھی ‘‘ اتنے ہی لفظ کے یہ معنیکسی طرح نہ ہو سکتے کہ ’’ جب شفق ؑڈوب گئی اس وقت پڑھی ‘‘ نہ یہ کہ جب اسکے ساتھ یہ تصریحات جلیہ ہوں کہ’’ پھر مغرب پڑھ کر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق ڈوب گئی اس کے بعد عشا پڑھی ‘‘ ان لفظوں کو کوئی نیم مجنون بھی مغرب بعد شفق پڑھنے پر حمل نہ کرسکے گا۔ ہاں پورے پاگل میںکلام نہیں ۔ مگر ادھر کے نصوص کہ ’’ چلے یہاں تک کہ شفق ڈوب گئی پھر مغرب پڑھی یا جمع کی یا بعد غروب شفق اتر کر جمع کی ‘‘ یہ اچھے خاصے محتمل و صالح تاویل ہیں جن کا ان نصوص صریحہ مفسر ہ سے موافق و مطابق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع