30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے ۔ بلکہ حدیث امام سالم میں یو ں ہے کہ حضور پر نور صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جسے جلدی ہو وہ اس طرح پڑھا کرے ۔
للہ انصاف ! ان صاف الفاظ مفسر نصوص میں کہیں بھی گنجائش تاویل و تبدیل ہے۔ اور شک نہیں کہ قصہ صفیہ زوجہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو وہاں اور یہاں دونوںطرف کی روایات میں مذکور ایک ہی بار تھا ۔ بلکہ انہیں امام نافع سے مروی کہ ابن عمر سے عمر بھر میں صرف
اسی بار جمع معلوم ہے اس کے سوا کسی سفر میں انہیں جمع کرتے نہیں دیکھا ۔
سنن ابی دائود میں بطریق امام ایو ب سختیانی مذکور۔
۵۸۸۔ عن نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن اِبن عمر ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما موقوفا
انہ لم یر ابن عمر جمع بینہم قط الا تلک اللیلۃ یعنی لیلۃ استصرخ علی صفیۃ۔
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کبھی دو نمازیں جمع کرتے نہیں دیکھا مگر اس رات ، یعنی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ
عنہا کی بیماری کی اطلاع والی رات۔
اور وہ جو بطریق اما م مکحول مذکور ہے کہ حضرت نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ
تعالیٰ عنہم کو ایک بار یادو بار جمع کرتے دیکھا۔
تو میں کہتا ہوں کہ اس میں شک ہے یعنی بصیغئہ تمریض روی مذکور ، اور شک سے یقین
کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا ۔
حدیث نسائی و طحاوی میں انہیں امام نافع سے گذرا کہ میں نے ا نکی عادت یہ پائی تھی کہ
نماز کی محافظت فرماتے ۔
حدیث کتا ب الجحج میں انہیں نافع سے تھا کہ ابن عمر اذا ن ہوتے ہی مغرب کیلئے
اترے اس بار دیر لگائی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع