30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۲۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
بظاہر زیادہ مستحق جواب یہ ہی تین روایتیں تھیں ۔ مگر فقیر بعونہ الملک القدیر عزوجل وہ جوابات شافیہ و کافیہ اور تقریرات صافیہ و وافیہ بیان کر ے کہ یہ ساتوں طرق اور انکے سوا اور بھی
کچھ ہو تو سب کو بحول اللہ تعالیٰ کفایت کریں ۔
فاقول و باللہ التوفیق و بہ العروج علی اوج التحقیق ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۵۸۶۔ الجامع للترمذی، الصلوۃ، ۱/۷۲
۵۸۷۔ السنن للنسائی، المواقیت ، ۱/۶۹
جواب اول :ـ اسی حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے طر ق کثیرہ جلیلہ صحیحہ کہ سابقاً ہم نے ذکر کئے صاف و واشگاف بآواز بلند تصریحات قاہرہ فرمارہے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نماز مغرب غروب شفق سے پہلے پڑھی اور عشا غروب شفق کے بعد ۔ اور اسی کو حضور اقد س
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔
ان روایا ت صحاح و حسان جلیلۃ الشان پر پھر نگاہ تازہ کیجئے ۔ امام سالم صاحبزادئہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنی روایات مروییئہ صحیح بخاری و سنن نسائی و صحیح اسمعیلی وغیرہا میں فرما رہے ہیں ہیں کہ دو تین میل چلکر جب تارے کھل آئے اتر کر مغرب پڑھ ۔ پھرٹھہر کر
عشاء ۔
عبد اللہ بن واقد شاگرد حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنی روایات مرویئہ سنن ابی دائود میں روشن تر فرماتے ہیں :کہ غروب شفق سے پہلے اتر کر مغرب پڑھی پھر منتظر رہے یہاں
تک کہ شفق ڈوب گئی اس وقت عشا ء پڑھی ۔
طرفہ یہ کہ وہی امام نافع تلمیذ خاص و رفیق سفر و حضر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہ ان غروب شفق والی سات روایتوں میں چار انہیں سے ہیں ۔ وہی وہاں اپنی روایات کثیر ہ مرویہ سنن ابی دائود و سنن نسائی وغیرہما میں یوں ہی واضح و جلی تر فرمارہے ہیں کہ جب تک مغرب پڑھی ہے شفق ہر گز نہ ڈوبی تھی ۔ بلکہ بعد کو بھی انتظار فرمانا پڑا ۔ جب ڈوب گئی اس وقت عشا کی تکبیر کہی اور اول تا آخر ان سب روایات میں تصریح صریح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع