30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تُشَفَّع،ْ فَأقُوْلُ: یَا رَبُ! أمَّتِیْ أمَّتِیْ، فَیُقَالُ لِیْ: إنْطَلِقْ فَمَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ أدْنٰی أدْنٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۔ الصحیح لمسلم ، کتاب الایمان ، ۱/۱۱۰ ٭ المسند لابی عوانہ ، ۱/۱۸۴
الجامع الصحیح للبخاری، صفۃ الجنۃ ،۲/۹۷۱ ٭ التفسیر للبغو ی ، ۴/۱۷۷
أدْنٰی مِنْ مِثْقَالِ حَبّۃ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إیْمَانٍ فَأخْرِجْہُ مِنْ النَّارِفَأنْطَلِقُ فَأفْعَل،ُ ثُمَّ أرْجِعُ اِلٰی رَبِّی فِی الرَّابِعَۃِفَأحْمَدُہٗ بِتِلْکَ المَحَامِدِ، ثُمَّ أخِرُّ لَہٗ سَاجِداً فَیُقَالُ لِیْ: یَا مُحَمَّدُ! إرْفَعْ رَأسَکَ ،وَ قُلْ یُسْمَعْ لَکَ، وَ سَلْ تُعْطَہْ، وَ إشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأقُوْلُ :یَا رَبِّ! إئْذَنْ لِیْ فِیْمَنْ قَالَ :لاَ إلٰہَ إلاَّ اللہٗ ، قَالَ : لَیْسَ ذَاکَ لَکَ أوْ قَالَ: لَیْسَ ذَاکَ إلَیْکَ ، وَ لٰکِنْ وَ
عِزَّتِیْ وَ کِبْرِیَائِیْ وَ عَظْمَتِیْ وَ جَبْرِیَائِی!ْ لأخْرِ جَنَّ مَنْ قَالَ : لاَ إلٰہَ إلاَّ اللہٗ ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے ۔ سب سے پہلے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ و التسلیم کی بارگا ہ میں حاضری دیں گے ۔ عرض کریں گے : آپ اپنی اولاد کی بارگاہ خدا وند قدوس میں شفاعت کیجئے ۔ آپ جواب میں ارشا د فرمائیں گے :میں اس کام کیلئے متعین نہیں ۔ تم سب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی بارگاہ میں حاضری دو ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں ۔ سب ملکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن یہاں سے بھی یہی جواب ملے گا کہ میں اس کے لئے نہیں، تم حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس جائو کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگا ہ میں سب کی حاضری ہوگی۔ وہ بھی فرمائیں گے میں اس کام کیلئے نہیں ۔ تم سب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس جاکر دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔ تمام لوگ انکی خدمت میں حاضری دیں گے لیکن یہاں سے بھی وہی جواب ملے گا کہ میں اس کام کیلئے نہیں ۔ ہاں تم سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی علیہ التحیۃ و الثناء کی بارگا ہ اقدس میں حاضری دو ۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :کہ پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے تو انکو خوشخبری سنائوںگا کہ ہاں میں اس کام کیلے چنا گیا ہوں ۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری دونگا ۔ اور خدا وند قدوس سے اجازت چاہوں گا ،تو مجھے اللہ کے حضور کھڑے ہونے کی اجازت ملے گی ۔ میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی اس طرح حمد و ثنا بیان کرونگا کہ جس پر میں اس وقت قادر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت خصوصی الہام ہوگا جو میں بیان کرونگا، پھر میں خدا وند قدوس کے حضور سجدہ کرونگا ۔ پھر مجھے حکم ہوگا ۔ اے محمد ! سر اٹھائو اور کہو سنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع