30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی اس کا ذکر زبان پر نہ لائے ۔ لہذا اس میں زیادہ کلام کی ہمیں حاجت نہیں ۔ تاہم اتنا معلوم رہے کہ اسکی سند میں راوی ’حسین ‘ ائمہ شان کے نزدیک ضعیف ہیں ۔ یحیی نے فرمایا : ضعیف ، ابو حاتم رازی نے فرمایا: ضعیف ، یکتب حدیثہ و لا یحتج بہ ، ضعیف ہیں ، اسکی حدیث لکھی جائے مگر اس سے استدلال نہ کیا جائے‘‘ ابو زرعہ وغیرہ نے کہا : لیس بقوی، قوی نہیں ، جوزجانی نے کہا : لا یشتغل بہ ، اس کے ساتھ مشغول نہیں ہو نا چاہیئے ۔ ابن حبان نے کہا : یقلب الاسانید و یرفع المراسیل ، اسنادوں کو پلٹ دیتا اور مراسیل کو مرفوع بنا دیتا تھا ، محمد بن سعد نے کہا: کان کثیر الحدیث ، و لم ارہم یحتجون بحدیثہ ، حدیثیں بہت بیان کرتا تھا ، علماء اسکی حدیث سے استدلال نہیں کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ نسائی نے فرمایا : متروک الحدیث ، امام بخاری نے فرمایا کہ علی بن مدینی نے کہا: ترکت حدیثہ ، میں نے اسکی حدیث
کو ترک کر دیا ہے ۔ لا جرم حافظ نے تقریب میں کہا : ضعیف ۔
اس حدیث کی تضعیف شرح بخاری قسطلانی شافعی ، شرح مئوطا زرقانی مالکی اور شرح
منتقی شوکانی میں دیکھئے ۔
ٍ ارشاد الساری میں فتح الباری سے ہے ۔
لیکن اس کا ایک شاہد ہے جو بطریقہء حماد مروی ہے ۔
۵۷۱۔ عن أبی قلابۃ عن اِبن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم ، (لا اعلمہ الا
مرفوعا و الا فہو عن ابن عباس ) انہ کان اذا نزل منزلا فی السفر فاعجبہ المنزل
اقام فیہ حتی یجمع بین الظہر و العصر ثم یرتحل ، فاذا لم یتہئیا لہ لاالمنزل مدفی
السیر فسار حتی ینزل فیجمع بین الظہر و العصر ۔
حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت عبد اللہ بن عباس
رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں ( ابو قلابہ کہتے ہیں میں تو اسکو مرفوع ہی جانتا ہوں ورنہ یہ حضرت ابن عباس پر موقوف ہے کہ جب آپ سفر کے دوران کسی منزل پر اترتے تھے اور وہ جگہ پسند آجاتی تھی تو وہاں ٹھہرجاتے تھے یہاں تک کہ ظہر و عصر کو یکجا پڑھتے تھے ۔ پھر سفر شروع کرتے تھے ۔ اور اگر کوئی ایسی منزل مہیا نہیں ہوتی تھی تو چلتے رہتے تھے یہاں تک کہ کسی
جگہ اتر کر ظہر و عصر کو جمع کرلیتے تھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع