30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاں یہ دفتر توثیق اپنے پیشوا ابن حزم غیر مقلد لا مذہب کو سنائیے جس خبیث اللسان نے آپ کی ا س روایت کے رد میں سید نا ابو الطفیل صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوو عیاذا باللہ مقدوح و مجروح بتایا ۔ جسے دوسرے غیر مقلد شوکانی نے نقل کیا ۔ غیر مقلد وں کی عادت ہے کہ جب حدیث کے رد پر آتے ہیں خوف خدا و شرم دنیا سب بالائے طاق رکھ جاتے ہیں ۔ اسی ابن حزم نے باجے حلال کرنے کے لئے صحیح بخاری شریف کی صحیح و متصل حدیث کو بزعم تعلیق رد کیا جس کا بیان امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے شرح صحیح مسلم شریف میں فرمایا ۔ وہی ڈھنگ موصول کو
معلق ، مسند کو مرسل بنا کر احادیث صحیحہ جیدہ کو رد کرنے کیلئے آپ نے سیکھے ہیں ۔ کما تقدم ، و
من یشبہ آباء ہ فما ظلم ۔
ثم اقول : اس روایت میں اسی طرح مقال واقع ہوئی اور ہنوز کلام علماء طویل ہے۔ مگر فقیر
غفر اللہ تعالی لہ کہتا ہے ۔
نظر تحقیق کو رخصت تدقیق دیجئے تو اس روایت کا کونسا حرف جمع حقیقی میں نص ہے ۔ اسکاحاصل تو صرف اس قدر ہے حضور والا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سفر تبوک میں ظہر و عصر کو جمع فرماتے ۔ اگر دوپہر سے پہلے کوچ ہوتا تو راہ میں اتر کر ورنہ منزل پر ہی ۔ پہلی صورت میں جمع بعد سیر ہوتی ، اور دوسری صورت میں سیر بعد جمع پھر اس میں جمع صوری کا خلاف کیا ہوا ، حدیث کا کونسا لفظ حقیقی کی تعیین کر رہا ہے۔ اذا ارتحل بعد زیغ الشمس ، میں خواہی نخواہی بعدیت متصلہ پر کیا دلیل ہے بلکہ اسکے عدم پر دلیل قائم کہ جزا ’’ صلی ثم سار ، ہے بلکہ الفاظ ‘‘ اخر الظھر و عجل العصر ‘‘ سے جمع صوری ظاہر ہے ۔ ظہر دیر کر کے پڑھی عصر جلدی پڑھی ۔ اس سے یہ ہی معنی مفہوم و متبادر ہوتے ہیں کہ ظہر اپنے آخر وقت میں عصر اپنے شروع وقت میں ، نہ
یہ کہ ظہر عصر میں پڑھی جائے یا عصر ظہر میں ۔
۵۶۵۔عن أبی جحیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : خرج علینا النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بالہاجرۃ الی البطحاء ، فتوضأ فصلی لنا الظہر و العصر، و لفظ البخاری ، خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بالہاجرۃ فصلی
بالبطحاء الظہر و رکعتین و العصر رکعتین ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع