30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روایت نہ کیا ۔ یہاں تک کہ بعض ائمہ نے اس پر غلط ہونے کا حکم لگایا ۔ جیسا کہ امام بدرا لدین عینی نے عمدۃ القاری اور شوکانی ظاہر ی نے شرح منتقی میں حافظ ابی سیعد بن یونس سے نقل کیا ۔ امام ابو دائو د نے منکر کہا ۔ جیسا کہ بدر منیر میں ہے اور اسی سے نیل الاوطار
نے نقل کیا ۔
بلکہ رئیس الناقدین امام بخاری نے اشارہ فرمایا کہ یہ حدیث نہ لیث نے روایت کی نہ قتیبہ نے لیث سے سنی ، بلکہ خالد بن قاسم مدائنی متروک بالاجماع مطعون بالکذب نے قتیبہ کو دھوکا دے کر ان سے روایت کرادی ۔ اسکی عادت تھی کہ براہ مکرو حیلہ شیوخ پر انکی ناشنیدہ
روایتیں داخل کر دیتا ۔ لا جرم حاکم نے علوم الحدیث میں اسکے موضوع ہونے کی تصریح کی ۔
یہ سب باتیں علمائے حنفیہ مثل امام زیلعی شارح کنز و امام بدر عینی شارح صحیح بخاری و علامہ ابراہیم حلبی شارح منیہ کے سوا شافعیہ و مالکیہ و ظاہریہ قائلان جمع بین الصلاتین مثل امام قسطلانی شافعی شارح بخاری و علامہ زرقانی مالکی شارح مئوطا و مواہب و شوکانی ظاہری شارح ملنتقی وغیرہم نے امام ابن یونس ، امام ابو دائود ابو عبداللہ حاکم اور امام المحدثین بخاری سے نقل کیں بلکہ انہیں نے اور انکے غیر مثل صاحب بدر منیر وغیرہ نے امام ابو داؤد سے حکم مطلق نقل کیا کہ جو مضمون اس روایت کا ہے اس باب میں اصلا کوئی حدیث قابل استناد نہیں ۔
تو با وصف تصریحات ائمئہ شان خصوصا بخاری کے پھر ملاجی کا اس روایت کی تصحیح میں عرقریزی کرنا بے حاصل ، اور توثیق لیث و قتیبہ و غیرہما رواۃ و قبول تفرد ثقہ کے اثبات میں تطویل لاطائل کرنا کیسی جہالت فاحشہ ہے ۔ کس نے کہا تھا کہ قتیبہ ، یا لیث ، یا یزید بن حبیب ، یا معاذ
اللہ حضرت ابو الطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضعیف ہیں ۔
ملا جی بایں پیرانہ سالی و دعویٔ محدثی ابھی حدیث معلول ہی کو نہیں جانتے کہ اس کیلئے کچھ ضعف راوی ضرور نہیں بلکہ باوصف و ثاقت و عدالت رواۃ حدیث میں علت قادحہ ہوتی ہے کہ اس کا رد واجب کرتی ہے جسے بخاری و ابو دائود وغیرہما سے ناقدین پہچانتے ہیں ۔ بخاری و ابو سعید و حاکم نے بھی تو قتیبہ پر جرح نہ کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ انہیں دھوکا دیا گیا ۔ غلط میں پڑگئے ۔
پھر اس سے عدالت قتیبہ کو کیا نقصان پہونچا ، و ثاقت قتیبہ سے حدیث کو کیا نفع ملا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع