30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵۶۳۔ عن علی بن الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرسلا انہ کان یقول : کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا اراد ان یسیر یومہ جمع بین الظہر
والعصر واذا ارادا ان یسیر لیلہ جمع بین المغرب و العشاء ۔
حضرت امام زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرسلا روایت
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دن کو سفر کا ارادہ فرماتے تو ظہر و عصر کو جمع
فرما تے ، اور جب رات کو سفر کا ارادہ فرماتے تو مغرب وعشا کو جمع فرمالیتے ۔
]۱۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور جمع بین الصلاتین کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی نماز کو مئوخر کر کے آخر وقت میں پڑھا جائے اور دوسری کو جلدی کر کے اول
وقت میں۔
ملا جی تو ایک ہوشیا ر ، ان احادیث اور انکے امثال کومحتمل و بے سود سمجھ کر خود بھی زبان
پر نہ لائے اور اغوائے عوام کیلئے یوں گول در پردہ کہہ گئے کہ،۔
’’ جمع بین الصلاتین فی سفر صحیح اور ثابت ہے رسول اللہ سے بروایت جماعت عظیمہ
کے صحابہ کبا ر سے ۔ معیا ر الحق ‘‘
پھر پندرہ صحابہ کرام کے اسمائے طیبہ گنا کر خود ہی کہا:
’’ لاکن مجموعہ روایات میں بعض ایسی ہیں کہ ان میں فقط جمع کرنا رسول اللہ کا دو نمازوں کو بیان کیا ہے کیفیت جمع کی بیان نہیں کی ، بس حنفی لوگ ان حدیثوں میں یہ تاویل کرتے ہیں کہ مراد اس سے جمع صوری ہے اسی لئے وہ حدیثیں جن میں تاویل کو مخالف کی دخل نہیں ذکر کرتے ہیں تو منصفین با فہم ان حدیثوں مجمل الکیفیۃ کو بھی انہیں احادیث مبینۃ الکیفیۃ
پر محمو ل سمجھیں۔ اہ ملخصا معیار الحق ‘‘
اقول:
بالفرض اگر جمع صوری ثابت نہ ہوتی تاہم محتمل تھی اور احتمال قطع استدلال ، نہ کہ جب آفتاب کی طرح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع