30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روایت نسائی میں خود ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس جمع کے جمع فعلی ہونے کی تصریح فرمادی کہ ظہر و مغر ب میں دیر کی اور عصر و عشا ء میں جلدی ۔ یہ خاص جمع صوری ہے ۔ کسی
کو محل سخن نہ رہا ۔
تمہارے امام شوکانی غیر مقلد نے نیل الاوطار میں کہا ۔ جو چیزیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس باب سے متعلق حدیث کا جمع صوری پر حمل کرنا متعین ہے ان میں سے ایک وہ روایت ہے جو نسائی نے ابن عباس سے نقل کی ہے ۔ اور یہ ابن عباس جو اس موضوع سے متعلق حدیث کے اولین راوی ہیں خود تصریح کررہے ہیں کہ انہوں نے جمع بین الصلوتین کی جو
روایت بیان کی ہے اس سے مراد جمع صوری ہے ۔
شوکانی نے اس ارادہ کے اور چند مؤیدات بھی بیان کئے ہیں اور انکا ر جمع صوری اور آپکے زعم باطل مصیبت کی اپنی بساط بھر خوب خوب خبریں لی ہیں ۔جی میں آئے تو ملاحظہ کرلیجئے
بالجملہ شک نہیں کہ حدیث میں مراد صوری ہے ۔
فتاو ی رضویہ ۵/۱۹۳۔۱۹۴
۵۴۳۔ عن عمر و بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما : جمع لنا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقیما غیر مسافر بین الظہر و العصر ، و المغرب و العشاء ، فقال رجل لابن عمر ، لم تری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۵۴۳۔ المصنف لعبد الرزاق ، الصلوۃ، ۲/۵۵۶
النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فعل ذلک ؟ قال : لان لا تحر ج اُمتہ ، اِن جمع رجل۔
حضرت عمر و بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمارے لئے دو نمازیں جمع فرمائیں جبکہ آپ مقیم تھے مسافر نہ تھے ۔ یعنی ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر ضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا ۔ آپ کے خیال میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع