30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جد ہ ان علیا کان اذا سافر الحدیث ‘‘
جس کا صاف صریح حاصل یہ تھا کہ عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی اپنے والد محمد سے روای ہیں ۔ اور وہ انکے دادا یعنی اپنے والد عمر سے کہ انکے والد ماجد مولی علی نے جمع صوری خود بھی کی
اور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بھی روایت فرمائی۔
ابیہ اور جدہ میں دونوں ضمیریں عبد اللہ کی طرف تھیں ۔ حضرت نے بزور
زبان ایک ضمیر عبد اللہ دوسری محمد کی قرار دیکر یہ معنی ٹھہرائے کہ۔
’’ عبد اللہ روایت کرتے ہیںاپنے با پ محمد سے اور وہ محمد اپنے دادا علی سے ، اور محمد کو
اپنے داد ا علی سے ملاقات نہیں تو مرسل ہوئی اور مرسل حجت نہیں ۔ معیا ر الحق ‘‘
قطع نظر اس سے کہ مرسل ہمارے اور جمہور ائمہ کے نزدیک حجت ہے۔ ایمان سے کہنا ان ڈھٹائیوں سے صحیح و ثابت حدیثوں کو رد کرنا کونسی دیانت ہے ۔ میں کہتا ہوں آپنے ناحق اتنی محنت بھی کی اور حدیث متصل کو صرف مرسل بنایا ۔ حیا و دیانت کی ایک ادنی جھلک میں بھی باطل و موضوع ہوئی جاتی تھی اور بات بھی مدلل ہوتی کہ ضمیر اقرب کی طرف پھرتی ہے ۔ اور ابیہ
سے اقرب ابو طالب اور جدہ سے اقرب ابیہ ، تو معنی یوں کہے ہوتے کہ ،
عبد اللہ نے روایت کی ابو طالب کے باپ حضرت عبد المطلب سے اور عبد المطلب
نے ا پنے داد ا عبد مناف سے کہ مولیٰ علی نے جمع صوری کی ۔
اب ارسال بھی دیکھئے کتنا بڑھ گیا کہ مولیٰ علی کے پر پوتے مولا علی کے دادا سے روایت کریں ۔ اور حدیث صراحۃ موضوع بھی ہوگئی کہ کہاں عبد المطلب و عبد مناف اور کہاں مولی علی
سے روایت حدیث مفید احناف ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
مسلمانو! دیکھا یہ عمل بالحدیث کا جھوٹا دعوی کرنے والے جب صحیح حدیثوں کو رد کرنے پر آتے ہیں تو ایسی ایسی بد دیانتوں بے غیریتوں بیباکیوں چالاکیوں سے صحیح بخاری کو
بھی پس پشت ڈال کر ایک ہانک بولتے ہیں کہ سب واہیات اور مردود ہیں ۔ انا للہ و انا الیہ
راجعون ۔ فتاوی رضویہ جدید ، ۱۸۴۔۱۸۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع