30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ ایک راوی اس کا مغیرہ بن زیاد موصلی ہے اور یہ مجروح ہے کہ وہمی تھا ۔ قالہ الحافظ
فی التقریب
معیار الحق ‘‘
اقول:
اولا : تقریب میں صدوق کہا تھا وہ صندوق میں رہا۔
ٍ ثانیا : وہی اپنی وہمی نزاکت کہ ’لہ اوہام ‘ کو وہمی کہنا سمجھ لیا ۔
ثالثا : وہی صحیحین سے پرانی عدوات ، تقریب دور نہیں دیکھئے تو کتنے رجال بخاری و
مسلم کو یہ ہی ’صدوق لہ اوہام ‘ کہا ہے ۔
رابعا : مغیرہ رجال سنن اربعہ سے ہے ۔ امام ابن معین و امام نسائی دونوں صاحبوں
نے بآن تشد د شدید فرمایا۔ ’ لیس بہ بأس ‘ اس میں کوئی برائی نہیں ۔ زاد یحیی لہ حدیث واحد منکر ، اسکی صرف ایک حدیث منکر ہے لا جرم و کیع نے ثقہ ، ابو دائود نے صالح ، ابن
عدی نے عندی لا بأس بہ (میرے نزدیک اس میں کوئینقص نہیں ) کہا ۔
تو اس کی حدیث حسن ہونے میں کلام نہیں اگرچہ درجئہ صحاح پر بالغ نہ ہو جسکے سبب نسائی نے ’ لیس بالقوی ‘ اس درجے کا قوی نہیںہے ۔ ابو احمد حاکم نے لیس بالمتین عندہم ،
اس درجہ کا متین نہیں محدثین کے نزدیک ، کہا ۔
لا انہ لیس بقوی لیس بمتین و شتان ما بین العبارتین ۔ نہ کہ سرے سے قوی
اور متین نہیں ہے ۔ ان دونوں عبارتوں میں بہت فرق ہے ۔
حافظ نے ثقہ سے درجہ صدوق میں رکھا ۔ اس قسم کے رجال اسانید صحیحین میں صدہا ہیں
لطفیہ ۸: حدیث مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم مروی سنن ابی دائود کے رد کو
طرفہ تماشہ کیا مسند ابی دائود میں یوں تھا ۔
’’ قال اخبر نی عبد اللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب عن ابہ عن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع