30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالثا : ذرا رواۃ صحیح بخاری ومسلم پر نظر ڈالے ہوتے کہ ان میں کتنوں کی نسبت
تقریب میں یہی ’ صدوق یخطی‘ بلکہ اس سے زائد کہا۔ کیا قسم کھائے بیٹھے ہو کہ صحیحین کا رد ہی
کروگے ؟
لطیفہ۴: حدیث صحیح نسائی و طحاوی و عیسی بن ابان بطریق عطاف عن نافع ، کو عطاف
سے معلول کیا کہ ’’ وہ وہمی ہے ۔ کہا تقریب میں’’ صدوق یہم‘‘۔ معیا رالحق
اقول:
اولا : عطاف کو امام احمد و امام ابن معین نے ثقہ کہا ۔ و کفی بہما قدوۃ ، میزان میں انکی نسبت کوئی جرح مفسر منقو ل نہیں ۔
ثانیا: کسی سے پڑھو کہ وہمی اور ’ صدوق یہم ‘ میں کتنا فرق ہے ۔
ثالثا : صحیحین سے عداوت کہاں تک بڑھے گی ۔ تقریب ملاحظہ ہو کہ آپ کے وہم
کے ایسے وہمی ان میں کس قدر ہیں ۔
رابعا: بالفرض یہ سب رواۃ مطعون ہی سہی مگر جب بالیقین ان میں کوئی درجۂ سقوط
میں نہیں ۔ تو تعدد طرق سے پھر حجت تامہ ہے ۔ و لکن الوہابیۃ قوم یجہلون ۔
لطیفہ ۵: آپ کے امتحان علم کو پوچھا جاتا ہے کہ روایت طحاوی ’’ حدثنا فہد ثنا الحمانی ثنا ابن المبارک عن اسامۃ بن زید اخبرنی نافع‘‘ میں آپ نے کہاں سے معین کر لیا کہ یہ اسامہ بن زید عدوی مدنی ضعیف الحافظہ ہے ۔ اسی طبقہ سے اسامہ بن زید لیثی مدنی بھی تو ہے کہ رجال صحیح مسلم و سنن اربعہ و تعلیقات بخاری سے ہے ۔ جسے یحیی بن معین نے کہا ۔ثقہ ہے ، ثقہ صالح ہے ، ثقہ حجت ہے ۔ دونوں ایک طبقہ ایک شہرایک نام کے ہیں اور دونوں
نافع کے شاگرد ۔ پھر منشاء تعیین کیا ہے ؟
اور آپ کو تو شاید اس سوال میں بھی دقت پڑے کہ کہاں سے مان لیا کہ یہ حمانی حافظ کبیر یحیی بن عبد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع